Home
Questions And Answers

سوال: کیا مسیحیت میں شراب پینا جائز ہے؟

جواب:

عرصہ دراز سے میری وِلی آرزو رہی کہ اس موضوع پر کچھ سیکھا جائے لیکن مصروفیات الوقت کی وجہ سے کچھ نہ کر پایا لیکن گذشتہ کئی ایام سے اِس موضوع پر کئی کتب کے مطالعے کا بھی اتفاق ہوا لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی اور یوں تشنگی ہی رہی ۔ اِس موضوع پر مجھ سے نہ صرف پاکستان سے بلکہ بیرون ملک سے بھی مسیحیوں نے سوالات پوچھےلیکن کوئی خاطر خواہ جواب دینے سے قاصر رہا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس طرح کے موضوعات پر شاید ہی قلم اُٹھایا گیا اور اگر اُٹھایا گیا تو ہمارے تنقیدی تیروں نے لکھاری کے جذبات کو مجروح کر دیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی کتاب حرف آخر نہیں ہوتی ۔ ہر کتاب آپ کو کچھ نہ کچھ سمجھا سکتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ آپ ہر بات سے متفق ہوں ۔ میری یہ ادنی سی سعی بھی کافی و کامل تو نہیں تو بھی جب موضوع کو حرف ابتدا سے حرف آخر تک پڑھا جائے گا تو پھر خلاصہ قاری کے ذہن میں آجائیگا کہ اصل میں زیر بحث موضوع سے متعلق بائبل مقدّس کیا کہتی ہے۔

خالق کائنات نے باغ عدن (جنت اَرضی) میں مختلف اَشجار تخلیق فرمائے اور عمل تخلیق کے بعد اُس نے اَپنی تخلیق سے متعلق فرمایا کہ اَچھا ہے ( تو رات کی پہلی کتاب پیدائش ۱۲:۱)۔ چونکہ باغ عدن موجودہ عراق میں تھا جس کی وجہ سے یہ جغرافیائی خطہ انگوروں کی کاشت کیلئے بہت ہی موزوں رہا ہے اور آج بھی

یہ سرزمین بہت بڑی فوقیت کی حامل ہے ۔ ویسے بھی بحیرہ رُوم کی آب و ہوا انگورستان کیلئے بہت ہی موزوں رہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ انگور کو پھل دینے کیلئے کم از کم تین سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔

کتاب مقدس شاہد ہے کہ تاریخِ عالم و اِنساں میں انگوروں کی کاشت ہوتی رہی۔ طوفان نوح کے بعد حضرت نوح نے بھی انگورستان لگایا تو رات کی پہلی کتاب پیدائش (۹: ۲۰)قوم بنی اسرائیل نے بھی انگوروں کی کاشت کثرت سے کی۔

یادر ہے کہ عہد حاضر میں شادی بیاہ اور دِیگر تقریبات میں کولڈرنکس کا رواج دیکھا دیکھی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ لیکن زمانہ رفتہ میں یہودی تاریخ اِس بات کا ثبوت پیش کرتی ہے کہ اُس وقت میزبان اَپنے مہمانوں کی خدمت میں انگوروں کا تازہ رَس یا شیرہ پیش کیا کرتے تھے ( پیدائش ۱۸:۱۴؛ ۱- سیموئیل ۱۸:۲۵؛ ۲ - سیموئیل ۱:۱۲) ۔ یہ رَس جب تک تازہ رہتا اِس میں کوئی نشہ نہیں ہوتا تھا لیکن جب ذرا پرانا ہو جاتا تو اپنا اثر دکھاتا تھا۔ انگوروں کے اس طرح کے تازہ رس کو کئے" کہا جاتا ہے۔ لیکن جب وہ پرانا ہو جائے تو خمیر کی وجہ سے اُس میں نشہ آ جاتا ہے اور اس حالت میں یہ رَس نہیں بلکہ شراب کہلاتا ہے۔

انجيل مقدّس میں ایک شادی کی ضیافت کا بیان ہے جس میں حضور المسیح ، آپ کے حواریوں یعنی شاگردوں اور آپ کی والدہ محترمہ حضرت مرؔیم ِصدیقہ کو بھی مدعو کیا گیا ۔ اس لیا ۔ اس شادی میں بھی مہمانوں کی خدمت میں کے پیش کی گئی (انجیل شریف میں یوحنا ۲: ۱ ۔۱۱) ۔ جب مے ختم ہو گئی تو حضورالمسیح نے اپنی الہی قدرت کے وسیلہ سے پانی سے بھرے چھ  مٹکے مے میں تبدیل کر دیئے ۔ میں پھر سے آپ کی خدمت میں یہ عرض کرتا چلوں کہ یہ مے شراب نہیں تھی۔ ویسے بھی یہ انبیاء اَللہ کی شان کے بر خلاف ہے کہ وہ کوئی ایسا کام کریں جو پروردگار عالم کی شان کے شایان نہ ہو ۔ انبیاء نے تو شراب نوشی کے بر خلاف باتیں کیں اور اُس وقت کے معاشرے میں پائے جانے والے گناہوں کے خلاف آواز اٹھائی ۔ اور یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ نبی جس بات کی مخالفت کرے وہ خود وہی کرے۔ نیز یہ بات خلاف عقل بھی ہے کہ شادی کی ضیافت میں شراب پلائی جائے ۔ اگر ایسا ہوتا تو تصور کیجئے کہ پھر وہاں کیا نہیں ہوگا اور ڈولی کب اُٹھے گی۔ اس لیئے یہ الزام کہ حضرت عیسی المسیح نے شراب بنائی سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔

اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ انبیاء نے کہاں کہاں اِس کی مخالفت کی یا اِس کے خلاف آواز اٹھائی تو مذکورہ حوالہ جات کا مطالعہ کیجئے (یسعیاہ ۱۱:۵؛ پھر ۲۲ آیت ؛ یسعیاہ ۷:۲۸؛ یسعیاہ ۱۱:۵۶-۱۲؛ ہوسیع ۱۱:۴؛ حبقوق ۱۵:۲؛ اور میکاہ ۱۱:۲) ۔ اس موضوع پر یہ صرف چند حوالے ہیں۔

کتاب مقدّس میں یہ لفظ  ’’مے‘‘اپنی اصل زبان کے مطابق مختلف معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں پر اِن الفاظ کا ذکر کرنا مناسب اور باعث دِلچسپی ہوگا ۔

۱- شیکار :

جب انگور کے رس میں خمیر اُٹھتا ہے تو پھر اُس میں نشہ پیدا ہوتا ہے۔ اِس کیلئے عبرانی زبان میں شیکا ر کا لفظ مستعمل ہوا ہے۔ یہ کشید شدہ الکوحل سے مختلف ہے۔ شیکا ر کیلئے عربی زبان میں لفظ ’’سَکر " آیا ہے جس کا ترجمہ کھجور کی شراب یا نشہ آور چیز بھی کیا گیا ہے۔

۲۔بین:

اِس لفظ کے معنی بلبلے اُٹھنا کے ہیں۔ عربی زبان میں اِس کیلئے وین “ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی سیاہ انگور کے ہیں عہد جدید یعنی اِنجیل مقدس میں اِس لفظ کا ترجمہ بھی” کے ہی کیا گیا ہے۔

۳۔- خمیریا خُمر:

اِس کے معنی اُبلنا یا جھاگ اُٹھنا کے ہیں۔ اس کا بھی ترجمہ ’’مے‘‘ ہی ہوا ہے۔

۴-تیروش :

اَس لفظ کے اَصل معنی ’’قبضہ میں کر لینا “ کے ہیں (تو رات کی پانچویں کتاب استثنا ء ۱: ۲۱) ۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے کہ جب شراب پینے والا پی لیتا ہے تو شراب اُس کے حواس اور اعصاب پر قبضہ کر لیتی ہے۔ بعض مقامات پر اس کا ترجمہ’’ نشہ آور چیز ‘‘بھی کیا گیا ہے۔

فیروز الغات میں لفظ " مے‘‘ کا ترجمہ شراب ہی ہوا ہے۔ انگور کا رَس جائز مشروب ہے بشرطیکہ اس میں خمار نہ ہو جو آج بھی مارکیٹ میں میسّر ہے۔میں پہلے بھی اِس حقیقت کا ذِکر کر چکا ہوں کہ اَرض مقدّس میں رَس یا شیرہ بطور مشروب اِستعمال ہوتا تھا اور اِس میں دُودھ ملایا جاتا تھا تا کہ زیادہ مزیدار ہو سکے ۔

سید نا حضور مسیح نے آخری فسح میں فرمایا کہ’’ انگور کا یہ شیرہ ‘‘۔ میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ وہاں پر ’’مے “ کا لفظ نہیں اور نہ ہی شراب کا لفظ ہے (انجیل شریف میں متی ۲۹:۲۶؛ مرقس ۱۴: ۲۵ اور لو قا ۱۸:۲۲ کا مطالعہ فرمائیں ) ۔ حضور المسیح نعوذ باللہ نا سمجھ نہیں تھے کہ اُن کو معلوم نہیں تھا کہ شیرہ ، شراب اور مے میں کیا فرق ہوتا ہے۔

بنی اِسرائیل کی تارِیخ میں جو شخص حق تعالیٰ کا نذیر ( ایسا شخص جس نے اَپنا آپ پورے طور پر خدا کی نذر کر دیا ہو ) ہوتا تھا۔ وُہ خواہ مر دہوتا تھایا عورت اُسے خُدا کی طرف سے شراب نوشی یا مے نوشی کی قطعی اجازت نہیں تھی۔ تو رات شریف سے گنتی ۱:۶- ۴؛ عاموس ۱۲:۲ ۔ ۱۶؛ احبار ۹:۱۰ اور انجیل شریف سے لو قا ۱: ۱۵ کا مطالعہ فرمائیں )۔

لہٰذا كتابِ مقدّس کے طلباء و طالبات سے میرا ادنی سا مشورہ ہے کہ دورانِ مطالعہ جہاں کہیں مے یا شراب کا لفظ آئے اُس کو بہتر طور پر سمجھنے کیلئے سیاق و سباق کا جاننا ، اُس معاشرے کا جاننا اور یہ جاننا کہ کون بول رہا ہے اور کس سے بول رہا ہے اور موقع محال کا جاننا کہ کیسا ہے ،ضروری ہے۔ جب ہم اُس معاشرے کے پاؤں میں پاؤں رکھ کر دیکھیں گے تو حقیقت کے سمجھنے میں زیادہ آسانی پیدا ہو جائے گی۔

کتابِ مقدّس میں بعض ایسے مقامات بھی ہیں جہاں پر انگوروں کے رَس یا شیرہ کو اصل زبان میں مشروب اَعلیٰ بھی کہا گیا ہے ۔ اِس کو عربی زبان میں’’ شراب الطہور‘‘ بھی کہتے ہیں ( قضاۃ  ۱۹:۱۹ ) ۔ لہذا میرا آپ سے یہی مفت مشورہ یہی ہے کہ اَپنا مطلب حل کرنے یا اُلو سیدھا کرنے کیلئے شراب اورمے کی کھچڑی نہ پکائیں بلکہ جو اِن میں فرق ہے اُسے ضرور روار کھیں ۔ قانائے گلیل میں حضور المسیح نے معجزانہ طور پر جومے بنائی وُہ شراب الطہور تھی جس میں نشہ نہیں تھا بلکہ وُہ بہترین مشروب تھا۔ اگر شراب ہوتی تو جیسا میں پہلے بیان کر چکا ہوں سب کے سب لمبے اور مد ہوش پڑے ہوتے اور شادی کا تمسخر اڑ رہا ہوتا ۔

قدیم معاشرے کے مطابق ابھی انگوروں کا رَس کھٹا ہو تا تو غریب اور محنت کش لوگ اس میں روٹی بھگو کر کھایا کرتے تھے۔ غرباء کی یہی مرغوب غذا تھی ۔ نظام ہضم کیلئے بھی یہ نہایت مفید تھی ۔ یہ بھی یادر ہے کہ انگوروں کے کھٹے شیرے کو سر کہ بھی کہا جاتا تھا جوپیا تو نہیں جاتا مگر کھانوں کی لذت بڑھانے کیلئے آج بھی اِستعمال کیا جاتا ہے ۔ اہل یورپ اِس شیرہ میں پانی ملا کر بطور مشروب پیتے تھے۔ تاہم جب اِسی شیرہ یا مشروب کو مزید کڑوا ہونے دیا جاتا تو یہ شراب بن جاتی تھی جس میں نشہ ہوتا تھا۔ یہ شراب نہ صرف انسان کے اَعضائے رئیسہ پر ہی اثر انداز ہوتی بلکہ اِس سے اِنسان کے ہوش و حواس بھی جاتے رَہتے ہیں اور پھر اِنسان اور درِندہ میں کوئی فرق نہیں رہتا۔

مزید بات کرتے ہوئے یہ کہوں گا کہ شراب پینا اچھی بات نہیں ہے۔ یہ انسانی اعضا کو مفلوج کر کے ناکارہ بنا دیتی ہے۔ شرابی لوگ اکثر کثرت ِشراب کی وجہ سے فالج کے مرض کے شکار ہو جاتے ہیں۔ دِل کے دورے بھی پڑتے ہیں اور یوں وُہ شہر خاموشاں آباد کرتے ہیں۔ ہمارے اخبارات ایسی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں کہ آج اتنے لوگ ناقص شراب پینے کی وجہ سے مر گئے ۔ پاکستانی حکومت غیر مسلموں کے نام پر شراب کے پرمٹ جاری کرتی ہے جبکہ پینے والے اور ہوتے ہیں ۔ اہل اسلام کہتے ہیں کہ شراب حرام ہے لیکن کسی دِن کسی شراب کی دُکان کے دروازے کی طرف چھپ کر دیکھیں کہ زیادہ آمد و رفت کن کی ہوتی ہے تو اندازہ ہو جائیگا کہ کون پینے والے ہیں ۔ جو مسیحی سمجھتے ہیں کہ کتاب مقدس شراب سے متعلق کیا کہتی ہے وُہ اس کے نزدیک تک نہیں جاتے۔

مسیحی لوگ وطن عزیز میں اپنے حقوق کے اعتبار سے ثانوی حیثیت سے سمجھتے جاتے ہیں۔ جبکہ ہم مساوات کے داعی ہیں ۔ مسیحی غریب عوام کے اعتبار سے ثانوی حیثیت سے سمجھے جاتے ہیں۔ جبکہ ہم مساوات کے داعی ہیں ۔ یہی غریب عوام دس یا پندرہ ہزار روپے ماہانہ گر دجھاڑ کر کماتے ہیں اور وہ شام کو چار ۱۰۰۰روپئے کی کُپی پیئیں گے یا اپنا خاندان پالیں گے۔ ہاں کچھ ایسے مسیحی بھی ہیں جو شراب نوشی کرتے ہیں جو ہمارے ایمان کے بر خلاف ہے کیونکہ یہ نشہ ہے۔

یا د رکھیں کہ شراب اہل کلیسیاء کیلئے بھی نا جائز ہے ۔ وُہ لوگ جو روزانہ دیگر شعبہ ہائے زندگی میں حرام کھاتے ہے اُن کیلئے اس (شراب) حرام کو منہ لگانا بھی کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ حیرانگی اس بات کی ہے کہ دوسروں پر انگلی اُٹھانے والے اَپنے گریبان میں جھانک کر نہیں دیکھتے۔ میں یہاں بہت کچھ کہہ سکتا ہوں لیکن دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ میں زبان قلم کو روک لوں کیونکہ سچائی ہمیشہ ہی کڑوی ہوتی ہے۔

اگر اہل کلیسیاء پر یہ الزام ہے کہ وُہ شراب نوشی کرتے ہیں، وہ زانی ہیں، وہ بدی کو پانی کی طرح پی جاتے ہیں تو پھر اس کا ایک سبب یہ ہے کہ جب آج کا غیر مسیحی شخص بیہودہ ننگی اور گندی فلمیں دیکھتا ہے جن میں اکثر فلمیں مغربی معاشرے میں بنی ہوتی ہیں تو فلم بین یہ سمجھتا ہے کہ جن کا بھی رنگ گورا ہوتا ہے وہ سب عیسائی ہی ہوتے ہیں ۔ ہر سفید چمڑی والا شخص عیسائی ہے ۔ جبکہ یہ بات سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ یورپ میں جتنے بھی گورے ہیں اُن کا تعلق مختلف مذاہب سے ہے۔ اگر کوئی گورا عیسائی ہے تو پھر گورا مسلمان بھی ہے۔ اگر کوئی گورا ہندو ہے تو پھر گورا بدھسٹ بھی ہے۔ سننے میں آیا ہے کہ زیادہ تر گورے یہی کہتے ہیں کہ کون خدا اور کسی خدا کی بات کرتے ہو ا تُم اپنے خدا کو اپنے پاس ہی رکھو ۔ ایسے لوگوں کیلئے اُن کے ذہن کے مطابق سب کچھ حلال اور جائز ہی ہے۔ ایسی سوچ کے حامل لوگوں کی ہمارے دیس میں بھی کمی نہیں ہے۔

میں وطن عزیز کے پہاڑی علاقے میں پیدا ہوا ۔ جب میں اسکول جاتا تھا تو اُس وقت کے نہ بھولنے والے واقعات میں سے ایک ایسے شخص کا واقعہ ہے جو بہت دولت مند تھا۔ یہاں پر اُس کا نام لکھنا اچھا نہیں ہوگا۔ وہ کافی زمینوں کا مالک تھا اور اُس کے بھائی وُکلاء تھے۔ وہ بہت بڑا اشرابی تھا۔ اتنی شراب پیتا تھا کہ اُس کا بدن پھول گیا تھا اور بیساکھیوں پر چلتا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ بیساکھیاں بھی چیخیں مار رہی ہوں گی۔ جب وہ غیر موزوں جگہ پر بہت زیادہ شراب پیتا تو سڑک کے کنارے مدہوش پڑا ہوتا اور اس حالت میں وہ انتہائی گندی گالیاں بھی نکالتا تھا۔ اُسے کچھ پتہ نہیں تھا کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ اُس کی شرٹ کے بٹن کُھلے ہوتے اور اس کے پیٹ پر چیونٹیاں چل رہی ہوتی تھیں ۔ اُس کا پا خانہ اُس کی پینٹ سے بھی باہر آ را ہوتا تھا اور انتہائی اور گندی بدبو کے سبب سے کوئی اُس کے قریب بھی نہیں جاتا تھا۔ کسی نے اُسے اپنی بیٹی نہ دی اور سننے میں آیا کہ وہ بالآخر بوڑھا ہو کر قتل ہو گیا ۔ یا د رکھیں وہ مسیحی نہیں تھا۔

تو رات شریف میں ذکر آیا ہے کہ جب حضرت لوط نے شراب پی تو کیا ہوا؟ (تورات کی پہلی کتاب پیدائش ۳۰:۱۹- ۳۸ ) کا مطالعہ فرمائیں۔ جب حضرت نوح نے شراب پی تو کیا ہوا ؟ (تو رات کی پہلی کتاب پیدائش ۹: ۲۰- ۲۷) ۔

بزرگ جوزف ہیرا سنگھ صاحب جو مسیحی مفکرین کی فہرست میں آتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ اگر میں شراب کو شر ، اَب کہوں تو یہ زیادہ مناسب ہوگا ۔ یہ اِس لیے کیونکہ شراب ہر طرح کی بدی کی جڑ یا منبع شر ہے۔

شراب نوشی نے جو گل کھلائے ذرا اُن کا ملا حظہ فرمائیں ۔ کتاب مقدّس اَپنے ہاتھ میں لے لیں ۔

۱- سیموئیل ۳۶:۲۵- ۳۸   نابال شراب نوشی کے نشہ میں چور ہو کر مر گیا ۔

۲- سیموئیل ۲۸:۱۳                      ابی سلوم نے امنون کو شراب پلا کر مار ڈالا۔

امثال ۱۷:۴                شرابی ظالم ہوتے ہیں۔

امثال ۱:۲۰                شراب ہنگامہ آرائی کرتی ہے۔

امثال ۱۷:۲۱               شرابی کا ہاتھ ہمیشہ تنگ ہی رہے گا۔

امثال ۲۳: ۳۱ ۔ ۳۲                      شراب سانپ کی طرح کاشتی اور افعی کی طرح ڈس جاتی ہے۔

امثال ۲۳: ۱۹ ۔ ۲۰          شرابیوں کی صحبت کو اختیار نہ کرنے کا ذکر ہے۔

حاکموں اور بادشاہوں کے شان کے شایاں نہیں کہ وہ شراب پیئیں ۔ امثال ۳۱: ۴ ۔۵

انجیل شریف میں بھی شراب نوشی سے منع کیا گیا ہے۔

رومیوں ۱۳: ۱۳ ۔ ۱۴                      ناچ رنگ و نشہ بازی ممنوع ہے۔

رومیوں ۲۱:۱۴                          اچھا ہے شراب اور مے نہ پیئے جائیں۔

لو قا ۳۴:۲۱                 خمار نشہ بازی سے خبر دار کیا گیا ہے۔

۱ کرنتھیوں ۵: ۹ ۔ ۱۱                       شرابی کیساتھ کھانا کھانے سے بھی منع کیا گیا۔

افسیوں ۱۸:۵              شراب بد چلنی کا سبب ہے ۔ اس سے منع کیا گیا ہے

اتیتھیں ۳: ۲ ۔ ۳، ۸                      خدام دین کو بھی نشہ بازی سے منع کیا گیا ہے۔

۱- پطرس ۳:۴             جب ہم مسیح ابن مریم کے ہیں تو پھر ہمیں شراب اور نشہ سے بچنا چاہیئے ۔

شراب نوشی کے بغیر ہی زیادہ بہتر ہے۔ تا کہ ہم دوسروں کیلئے ٹھوکر کا سبب نہ بنیں اور نہ ہی خُداوند کریم کے نافرمان ہوں۔ اِس سے کوئی فائدہ نہیں بلکہ تباہی ہی ہے اور ڈائر یکٹ جہنم رسید کرتی ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں ایسوں کیلئے تم نے اپنا منہ کھولا ہوا ہے ۔

گلتیوں ۵: ۱۹ ۔ ۲۱                        شرابی فردوس (آسمان کی بادشاہی ) میں داخل نہیں ہونگے ۔

ا کرنتھیوں ۶: ۹ ۔ ۱۰                       شرابی خُدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہونگے ۔

شراب بطور دُوا استعمال ہوتی ہے۔ حضرت پولس بھی اپنے روحانی فرزند بنام تیمتھیس سے فرماتے ہیں کہ معدے کی درستی کیلئے تھوڑی سی سے استعمال کر لیا کر (۱- تیمتھیس ۲۳:۵)۔ زخموں کو بھی تیل اور سے لگا کر باندھا جاتا تھا (لوقا۰ ۳۴:۱) لیکن عہدِ حاضر میں یہ بھی کوئی بہانہ نہیں ہے کیونکہ آج میڈیکل نے بہت ترقی کر لی ہے  اور ہر قسم کی دوا دستیاب ہے ۔ یادر ہے کہ اکثر دواؤں میں پہلے ہی سے الکوحل ملی ہوتی ہے اور یہ دوایاں تمام مذاہب کے لوگ پیتے ہیں۔

کئی لوگ شراب پینے کیلئے یہ بہانہ کرتے ہیں کہ ”جی سردی لگ گئی تھی اور بس چھاتی جکڑی ہوئی تھی تو یوں دوائی کے طور پر پی لی۔ اِس طرح کے بہانہ بازی سے اجتناب برتا جائے اور طبیعت کی خرابی کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے ۔

بالالفرض اگر میں کہوں کہ شراب جائز ہے تو دیکھنا یہ ہے کہ ..

۱۔ اس کے پینے سے میرا کیا فائدہ ہے ؟

۲۔کیا شراب پینے سے میرا روحانی طور پر کوئی فائدہ ہے ؟

۳۔کیا جسمانی طور پر کوئی فائدہ ہے جو صرف شراب ہی دے سکتی ہے؟

۴۔ کیا اس کے پینے سے کسی دوسرے کا فائدہ ہے؟

۵۔کیا اس کے پینے سے خدا کا جلال ظاہر ہوتا ہے؟

۶۔کیا شراب پینے سے معاشرے میں عزت ہوتی ہے؟

۷۔کیا کلام ِخدا اجازت دیتا ہے کہ میں شراب پیوں ؟

۸۔اس کے پینے سے ایسا کونسا کام ہو سکتا ہے جو خدا نہیں کر سکتا؟ مراد یہ ہے کہ خدا تو سب کچھ کر سکتا ہے ناں ۔ اگر خدا سب کچھ کر سکتا ہے تو لال پری کو اَپنا خدا بنانے کی کیا ضرورت ہے کہ اس کے پینے سے پیٹ ٹھیک ہوگا اور مجھے سکون ملے گا ؟ کیا خُد اسکون نہیں دے سکتا یا وُہ ہمارے پیٹ کو ٹھیک نہیں کر سکتا ؟ ۔

۹۔ اگر میں نہ پیوں تو کیا میں مر جاؤں گا ؟۔

۱۰۔ اگر میں کر رہا ہوں تو کیا اس کے پینے سے میں بچ جاؤنگا ؟۔

مندرجہ بالا کُلیہ ایسا ہے جو ہمارے لیئے بہت کارآمد ہے۔ اَچھا ہو گا کہ اِس کُلیئے کو اچھی طرح جان لیں کیونکہ آئندہ جب بھی کبھی آپ کچھ کرنے لگیں اور اس کشمکش میں ہوں کہ میں کروں یا نہ کروں تو اِن باتوں پر ضرور سوچیں۔ جب قربانی کے گوشت کھانے یا نہ کھانے کی بات ہو تو یہ کُلیہ اپنا ئیں تو جواب خود ہی مل جائے گا ۔ مناسب ہوگا کہ ان نکات کی ایک کاپی الگ سے تیار کر لیں اور جب آپ تجزیہ کریں تو آگے ہاں یا نہ لکھتے چلے جائیں تا کہ بہتر نتیجہ تیار کر سکیں ۔

اِس مضمون کی مناسبت سے میں یہاں پر حضرت یسعیاہ کی بیان کردہ ایک آیت پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ اُمید ہے اس سے بات بن جائے گی۔ تُم کس لیئے اپنا رو پیہ اس چیز کیلئے جو روٹی نہیں اور اپنی محنت اُس چیز کے واسطے جو آسودہ نہیں کرتی خرچ کرتے ہو؟ تم غور سے میری سنو اور وہ چیز جو اچھی ہے کھاؤ اور تمہاری جان فربہی سے لزت اُٹھائے (یسعیاہ ۲:۵۵)۔

رسول اعظم حضرت پولس کی معرفت خدا تعالیٰ فرماتا ہے " پس تم کھا یا ہویا جو کچھ کر سب خدا کے جلال کیلئے کرو (۱ کرنتھیوں ۳۱:۱۰) ۔ میں خداوند میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ کو اس سوال کا مدلل جواب مل گیا ہوگا۔ مجھ خاکسار کیلئے دُعا کرتے رہیں۔ خداوند آپ کو برکت بخشے ۔ (آمین)۔

Back to Questions