Home
Questions And Answers

سوال: کیا یسوع مسیح کی واقعی موت صلیب پر ہوئی یا کسی اور کو ان کی جگہ مصلوب کیا گیا؟

جواب:

یسوع مسیح کی موت واقع ہوئی کہ نہیں ؟ کیونکہ میرے کئی دوست کہتے ہیں کہ آپ کا چہرہ بدل گیا تھا اور یوں اللہ تعالی نے آپ کی جگہ کسی دُوسرے شخص کو صلیب پر چڑھا دیا۔

میں ایک بات کا ذکر پہلے ہی کر چُکا ہوں کہ خُد اکی طرف سے گنہگار انسان کیلئے نجات کے حصول کیلئے ایک فُل پیکج ہے ۔ جس میں گنہگار اِنسان کیلئے فلاح ، گناہوں کی معافی اور ہمیشہ کی زندگی کے دینے کا مکمل منصوبہ شامل ہے۔ کتاب مقدّس کا مضمون و مفہوم بھی یہی ہے ۔ اور یہی وہ واحد سچائی ہے جو اوراق بائبل مقدّس میں شروع سے آخر تک دوڑتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ خدا ابتدائے زمانہ سے ہی بنی نوع اِنسان کے گناہوں کی معافی کے منصوبے پر کام کرتا چلا آ رہا ہے ۔ اُس نے اَنبیا کرام کی معرفت قبل اِز وَقت پیشینگوئیاں بھی کی تھیں۔

بائبل مقدّس کے مطابق خدا صادق القول ہے اور وُہ انسان نہیں کہ جھوٹ بولے ۔ وہ کوئی ایسا کام نہیں کرتا جو اُس کی اپنی ذات اور شان کے بر خلاف ہو۔ میر اخد اجو کہتا ہے وُہ پورا کرتا ہے ۔ خُدا واحد ہے اس سبب سے اس کے پاس جانے کی راہ بھی واحد ہے ۔ یہ راہ انسان کی اپنی گھڑی ہوئی نہیں ہے۔ انسان تو پہلے ہی قربت الہی میں آنے سے عاجز ہے۔ چنانچہ خدانے انسان کو اپنی قربت میں لانے کا انتظام کیا جسے دنیا میں آج بے شمار لوگ نہیں سمجھتے۔ خُدا کی طرف سے انسان کے گناہوں کے کفارے کا انتظام ہوا ۔ حضور المسیح ہی وُہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے گنہگار اِنسان کیلئے صلیب پر اَپنی جان دی اور آپ کے اس عمل صالح کی بھی ایک نہیں کئی ہو تیں پہلے ہی سے کتاب مقدّس میں موجود ہیں۔

خدا شروع ہی سے ایک خاص منصوبے پر جو انسانی نجات کیلئے تھا کام کرتا چلا آیا اور عین وَقت پر وُہ یسوع مسیح کو صلیب پر چڑھنے نہیں دیتا؟۔ میں سمجھتا ہوں کہ خدا ایسا نہیں کرتا ۔ اگر چہ میرے ماننے یا نہ ماننے سے اُس کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا تو بھی میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ایسا کرنا اُس کی شان کے بر خلاف ہے۔ صلیب پر خداوند یسوع ہی مر گئے اور بنی نوع انسان کے گناہوں کے کفارہ ہوئے کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ ہی نہ تھا۔ اگر صلیب پر کوئی اور شخص مرتا تو اس کے منہ سے وہ کلمات ہر گز نہ نکلتے جو خُداوند یسوع مسیح کے منہ مبارک سے نکلے ۔

اگر کوئی اور ہوتا تو وہ تو چلا اٹھتا کہ میں یسوع نہیں بلکہ میرا نام تو نوید ہے، وُہ کوئی اور ہے اور مجھے ایک با ر صلیب پر سے اُتر نے تو دو !پھر دیکھنا میں تمہارا کیا حشر نشرکرتا ہوں ۔ لیکن مصلوب نے فرمایا " اَے باپ انہیں معاف کر کیونکہ یہ جانتے نہیں کہ کیا کرتے ہیں‘‘۔ اگر کوئی اور شخص ہوتا تو اَپنے ساتھ مصلوب بدکار شخص سے مخاطب ہو کر یہ کبھی نہ کہتا کہ تُو آج ہی میرے ساتھ فردوس میں ہوگا۔ کیونکہ اِس کے پاس ایسا کہنے کا کوئی اختیار ہی نہیں تھا۔ یہ خداوند یسوع مسیح ہی ہیں جنہوں نے یہ دعوی کیا کہ ” اَرض و سما کا کل اختیار مجھے دیا گیا ہے (متی ۲۸: ۱۸ ) ۔ مرقس ۱۰: ۴۵ ، میں یسوع مسیح نے اَپنے اس دُنیا میں تشریف لانے کے مقصد کو بیان کیا کہ میں بنی نوع انسان کے گناہوں کے عوضی اور کفارہ ہونے کیلئے آیا ہوں ۔

یسوع مسیح صلیب پر ہمارے گنا ہوں کیلئے مر گئے تا کہ ہم نہ مارے جائیں۔ اُنہوں نے ہمارے گناہ اٹھا لئے تا کہ ہم ان کے وسیلہ سے معافی حاصل کر سکیں۔ مسیح نے اِس لئے دُکھ اُٹھایا کہ ہم سُکھ میں رہیں ۔ وُہ ہماری خاطر اس لئے لعنتی بنے تا کہ ہم برکت کے وارث ہو جائیں ۔ اے گنہگار انسان تیرے لئے موقع ہے کہ تو اپنے گناہوں سے توبہ کر اپنی ہار مان ، زندگی کے سرچشمے یسوع کے پاس آجا،تا کہ تو گڑھے سے نکالا جائے اور تجھے چٹان پر کھڑا کیا جائے ۔ مزید مدد کیلئے ویب سائٹ پر میری ایک وڈیو ہے جس کا نام ہے صلیب پر کون موا اُسے ضرور دیکھیں اور سنیں ۔ خداوند آپ کو برکت بخشے ( آمین )۔

Back to Questions