Home
Questions And Answers

سوال: کیا واقعی بائبل مقدّس تبدیل ہو گئی ہے؟

جواب:

میرے اکثر مسلمان دوست کہتے ہیں کہ تمہاری بائبل تبدیل ہو گئی اورمیں مسیحی گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں اور میرا کوئی خاص مطالعہ نہیں اور نہ ہی میں اُن کے اس سوال کا جواب دے سکتا ہوں کیونکہ میں نے ایسے سوال پر نہ کبھی سوچا اور نہ ہی غور کیا ۔ برائے کرم مجھے سمجھائیں کہ کیا واقعی بائبل مقدّس تبدیل ہو گئی ہے؟

میرے مسیحی بھائی ، میرے بھی ایک بہترین دوست نے مجھ سے یہی سوال کیا تھا کہ بائیل مقدّس بدل گئی کہ نہیں ؟ یہی بہتر ہوگا کہ جو جواب میں نے اَپنے دوست کو دیا اس کا خلاصہ یہاں پیش کروں تا کہ نہ صرف آپ کی بلکہ آپ جیسے کئی اور لوگوں کی بھی اس جواب کے ذریعے مناسب مدد ہو پائے ۔

میرے دوست بائبل مقدس ۶۶ کتب کا مجموعہ ہے۔ تقریباً ۴۰،انسانی مصنفین نے الہام کی روح سے

اسے تحریر کیا۔ اس ساری کتاب کے مکمل ہونے تک تقریبا ۱۶۰۰ سال لگ گئے ۔ پھر بھی اس کتاب میں ایک مکمل ربط اور تسلسل پایا جاتا ہے جو آپ کو اور کہیں نہیں ملے گا۔ یوں لگتا ہے کہ اس ساری کتاب کا مصنّف گویا ایک ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اُس ایک ہی مصنف کا نام خدا ہے ۔ اس نے اپنے کلام کو الہام کے ذریعے رسولوں اور انبیاء کے وسیلہ سے تحریر کروایا ۔

میں نے تو اپنے دوست سے یہ بھی کہا کہ جب قرآن حکیم آیا تو تقریبا ۶۰۰سال انجیل شریف کو آئے ہوئے ہو چکے تھے ۔ جبکہ تو رات، شریف، زبور شریف اور صحائف الا نبیا تو اس سے بھی کئی سو سال پہلے آچکے

تھے ۔ اب قرآن کریم ۶۰۰سال بعد آ کر ان کتبِ سابقہ کی تصدیق کرتا ہے اور قرآن کے ماننے والوں کو یہ حکم بھی دیا گیا کہ ان کتب پر ایمان لائیں ورنہ پرلے درجے کی گمراہی میں ہو گے ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب قرآنِ حکیم آیا تو کم از کم اس وقت تو یہ کتب صحیح اور معتبر تھیں ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو قرآن اِن بگڑی ہوئی کتب کی کبھی تصدیق نہ کرتا۔ میں نے صرف ایک ہی آیت یہاں پر پیش کی ہے اور اگر وقت اجازت دے اور ذوق مطالعہ بھی ہو تو میری ویب سائٹ پر موجود دِیگر کتب کیساتھ اس کتاب کا بھی مطالعہ کریں کہ ’’کیا بائبل مقدّس تبدیل ہوگئی؟‘‘ ۔ آپ کو قرآن حکیم کے دیگر حوالہ جات بھی موضوع ہذا کے بارے میں مل جائینگے ۔

دُوسری بات جو میں نے اپنے دوست کو بتائی وہ یہ ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ان ۶۰۰ سالوں کے بعد کسی مسیحی راہب یا عالم نے بائبل میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی کی ہو؟ یا درہے کہ ان ۶۰۰ سالوں میں انجیل شریف کسی ایک گھر تک محدُود نہیں تھی ۔ دنیا کے بڑے بڑے پر اعظموں میں اس کتاب کے بڑی بڑی زبانوں میں تراجم ہو چکے تھے اور ہر ملک کے لوگ اپنی اپنی زبانوں میں بائبل مقدّس کی تلاوت کیا کرتے تھے۔

فرض کریں کہ میں ہی وُہ شخص ہوں جو بائبل مقدّس میں تبدیلی کی بابت سوچتا ہوں تو پھر سوچیں کہ کون میرا ساتھ دے گا ؟ لوگ میری گردن اڑا دینگے اور میرا ایسے علاقوں میں جانا بھی محال ہے جہاں کی زبان، معاشرہ اور ثقافت سے مجھے کچھ واقفیت نہیں۔ آج وُہ دور ہے کہ ایک ہی گھر میں دو سگے بھائیوں کی آپس میں نہیں بنتی تو میں زمانے کو کیسے اپنے پیچھے لگا لوں گا۔ بات بھی کسی عام سے کتاب کی نہیں بلکہ بائبل مقدّس کی ہو رہی ہے جو خدا کا ملہم اور لا تبدیل کلام ہے ۔

لہذا یہ بات بالکل درست ہے کہ کلام مقدّس معتبر اور لا خطا کلام ہے۔ ہاں اس کے اصل عبرانی اور یونانی زبان سے ۸۰۰ سے زائد زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔ ان میں پرنٹنگ کی اغلاط ہو سکتی ہیں اور ہیں بھی لیکن اس سے مفہوم نہیں بدل جاتا ۔ خدا کا کلام چراغ ہے جو اندھیری جگہوں کو روشنی بخشتا ہے۔ لہٰذا اس کا مطالعہ کرتے رہیں اور اس کے مطابق اپنی زندگی گزارتے رہیں۔

معترض حضرات کی خدمت میں صرف اتنا ہی کہنا کافی ہوگا کہ شیشے کے گھر میں بیٹھ کر دوسروں پر پتھر پھینکنا اچھا نہیں۔ اگر اہل کلیسیا بھی ایسے تیر پھینکنا شروع کر دیں تو یہ مسیحا کے نام پر دھبہ ہوگا ۔ میں اہل کلیسیا سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ بھی بھی ایسا نہ کریں۔ میری دِلی دعا ہے کہ خدا کا رُوح ہمیں چشم بینا عنایت فرمائے تا کہ ہم کلام خدا سے متعلق کفر بولنے سے باز آ جائیں ( آمین )۔

Back to Questions