Home
Questions And Answers

سوال: اگر یسوع مسیح جسمانی باپ کے بغیر پیدا ہوئے تو پھر حضرت آدم و حوا کے بارے میں کیا خیال ہے جن کے نہ ماں تھی نہ باپ؟

جواب:

اگر حضور المسیح جسمانی باپ کے بغیر پیدا ہوئے جس سبب سے اُنہیں خُدا کا بیٹا کہتے ہیں تو پھر حضرت آدم و حوا کے بارے میں کیا خیال ہے کیونکہ نہ ہی ان کا باپ تھا اور نہ ہی ان کی ماں تھی ؟۔

یہ بھی ایک ایسا سوال ہے جس کے بارے میں ہمارے مسلمان دوست ہم سے اکثر یہ بات پوچھتے ہیں۔ میرے دوست ! میں کب یہ کہتا ہوں کہ چونکہ یسوع مسیح بن باپ خدا کی قدرت سے پیدا ہوئے اس لئے وہ ابنِ خُدا ہیں۔ آپ کے خدا کا بیٹا ہونے کے پیچھے کئی اور پہلو بھی ہیں اور انہیں بالائے طاق نہیں رکھا جا سکتا۔ میں نے مندرجہ بالا سوال کے جواب میں جو کچھ کہا ہے اِس کی پھر سے نظر ثانی کریں ۔ یہاں پر میں صرف اسی سوال کا جواب دینا چاہوں گا جو پوچھا جا رہا ہے۔

یاد رکھیں کہ حضرت آدم کا اور حضور المسیح کا موازنہ کسی بھی صورت میں نہیں کیا جا سکتا۔ انجیل مقدّس کو بنیاد بناتے ہوئے اس سوال کی وضاحت میں چند وجوہات ذیل میں پیش کرتا ہوں۔

۱۔حضرت آدم زمین کی خاک سے پیدا ہوئے یسوع مسیح خدا کا روح اور کلام ہیں ( پیدائش ۲: ۷ )۔

۲۔ حضرت آدم زمینی تھے جبکہ یسوع مسیح آسمانی ہیں ( پیدائش ۱۹:۳ ، یوحنا ۱:۱۔۲)۔

۳۔ حضرت آدم کو گرانے اپنے ہاتھوں سے بنایا جبکہ یسوع مسیح ہر شے کے وجود میں آنے کا وسیلہ ہیں

( پیدائش ۱: ۲۶۔۲۸)۔

۴۔حضرت آدم کا اختیار محدُود تھا جبکہ یسوع مسیح کے پاس آسمان وزمین کا کل اختیار تھا ( پیدائش ۲: ۱۵، اور متی ۲۸: ۱۸ )۔

۵۔حضرت آدم نے خدا کی حکم عدُولی کی جبکہ مسیح یسوع عمر بھر کامل فرمانبردار ہے (رومیوں ۵: ۱۹) ۔

۶۔حضرت آدم کے وسیلہ سے گناہ دُنیا میں آیا جبکہ مسیح گناہ کا علاج بن کر آئے (پیدائش ۳: ۱۵ ، رومیوں ۵: ۱۲)

۷۔حضرت آدم کے وسیلہ سے دنیا میں موت راج کرنے لگی جبکہ صبح کے وسیلہ سے زندگی آگئی

(یوحنا ۵: ۱۲۔ ۲۱ )۔

۸۔ حضرت آدم کے وسیلہ سے فردوس کے دروازے ہمیشہ کیلئے بند ہو گئے جبکہ مسیحا نے صلیب کی کنجی لگا کر گنہگار انسان کیلئے فردوس کے دروازے ہمیشہ کیلئے کھول دیئے (یوحنا۱: ۲۹) ۔

۹۔حضرت آدم کے وسیلہ سے ہم اَپنے اَبدی مقام سے گر گئے جبکہ صبح کے وسیلہ سے ہم اس مقام پر پھر سے بحال کئے گئے (۲ کرنتھیوں ۵: ۱۷ ۔ ۲۱ )۔

۱۰۔ حضرت آدم کی عدالت ہو گی جبکہ مسیح خود عدالت کرنے والے ہیں (اعمال ۱۷: ۳۱،  یوحنا ۵: ۲۲ ۔ ۲۷ )۔

۱۱۔حضرت آدم کو موت آئی اوروُ ہ مر گئے اور آج تک مرے ہی ہوئے ہیں جبکہ یسوع مسیح مرگئے اور پھر جی اٹھے اور آج بھی زندہ ہیں (پیدائش ۵: ۵، : مکاشفہ ۱: ۱۷ ۔ ۱۸ )۔

۱۲۔ حضرت آدم اپنی موت خود مر گئے جبکہ مسیح یسوع دوسروں کیلئے مر گئے (۱ کرنتھیوں ۱۵ : ۱ ۔ ۴ )۔

قصہ المختصریہ کہ یسوع مسیح پھر سے بادلوں پر آنے والے ہیں۔ یہاں بہت سی ایسی باتیں ہیں جن کا میں نے ذکر نہیں کیا۔ سمجھدار اور محققین کیلئے یہ چند باتیں ہی بہت ہیں تا کہ ان کی مناسب طور پر مدد ہو سکے تاکہ وُہ جانیں کہ حضرت آدم و حوا اور حضور المسیح میں کیا فرق ہے ۔ یہ محاورہ مشہور ہے کہ عقلمند کیلئے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ میری دعا ہے کہ پروردگار آپ کو تعصّب کی عینک اُتار کر تحقیق کرنے کا بھاری فضل بخشے (آمین)

Back to Questions