Home
Questions And Answers

سوال: خداوند یسوع مسیح کیلئے حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام کے الفاظ استعمال کیئے جا سکتے ہیں کہ نہیں؟

جواب:

ایک  مسیحی بزرگ کا سوال ہے کہ خداوند یسوع مسیح کیلئے حضرت عیسی علیہ السلام کے الفاظ استعمال کر سکتے ہیں کہ نہیں ۔ مہربانی سے  مذکورہ سوال کے جواب کو وضاحت کیساتھ  بیان کریں۔

 یہ ایسا سوال ہے جو صرف ان بزرگوں کا ہی نہیں بلکہ اکثر سیمینارز میں لوگ یہ سوال پوچھتے ہیں اور فون پر بھی یا شخصی طور پر بھی بات کرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لفظ " یسوع " کے معنی ہیں وہی لفظ ’’عیسیٰ ‘‘

 کے بھی معنی ہیں یعنی نجات دہندہ ۔ آپ فیروز الغات کی ورق گردانی کر سکتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ دونوں نام ایک ہی شخصیت کو پیش کرتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ اِن کے بارے میں تعلیمات ایک  دوسرےسے میل نہیں کھاتیں۔

 

کسی بھی غیر مسیحی دوست سے بات کرتے ہوئے میں وُہ اصطلاحات استعمال کرتا ہوں جو اُس کیلئے عام فہم ہوں۔ مثال کے طور پر جس علاقے میں میری پیدائش ہوئی وہاں کے لوگ یسوع مسیح کو نہیں جانتے۔ وہاں کے لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کو جانتے ہیں۔ اَب اگر آپ وہاں جا کر خوشخبری سنانا چا ہیں تو کیسے سُنا ئینگے ؟ اگر آپ  مچھلی پکڑنے کیلئے  جائیں تو کیا آپ  کُنڈی کے آگے چاکلیٹ لگا ئیں گے کیونکہ یہ آپ کو پسند ہے یا وُہ کیڑ الگا ئیں گے جو مچھلی کو پسند ہے ؟حالانکہ آپ کو اس  کیڑے سے کراہت  آتی ہے؟۔ جواب واضح ہے کہ آپ کا مقصد مچھلی پکڑنا ہے۔ لہذا آپ کنڈی کے آگے کیڑا ہی لگائیں گے کیونکہ مچھلی کو چاکلیٹ سے کوئی سرو کار نہیں۔


میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر آپ حضرت  عیسیٰ  علیہ السلام کی اصطلاح استعمال نہیں کرنا چاہتے تو پھر وُہ یسوع مسیح کی اِصطلاح  سُننا نہیں چاہتے ۔ ہمارا کام دروازے بند کرنا نہیں بلکہ کھولنا ہے۔ فیصلہ اَب آپ کے ہاتھ میں ہے کہ اس صورت میں آپ کیا کرنا چاہیں گے۔

میں یہاں پر آپ کو ایک حل بتاتا ہوں ۔ پولس رسول فرماتے ہیں کہ میں مسیح کی خاطر سب کیلئے سب کچھ بنا تا کہ انہیں مسیح تک کھینچ لاؤں ۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ پولس رسول نے اِیمان کے اعتبار سے یہودیوں اور غیر قوموں کیسا تھ سمجھوتہ کرلیا تھا بلکہ خوشخبری پیش کرنے میں  ہر وُہ بات جو پولس رسول کو لوگوں سے دور لے جارہی تھی آپ نے ہر اس بات کو ایک طرف کر دیا۔

چونکہ آپ نے جواب کی وضاحت مانگی اس لئے میں یہاں پر کچھ مزید کہنے کی اجازت چاہوں گا۔میں ذاتی طور پر یسوع مسیح کیلئے علیہ السلام کی اصطلاح استعمال نہیں کروں گا کیونکہ اس کے معنی ہیں کہ آپ پر سلامتی ہو اور یسوع مسیح کو ہماری دُعاؤں کی قطعاً ضرورت نہیں۔ میں لفظ "مسیح ابنِ مریم، حضور المسیح ، ربنا المسیح اور عیسی المسیح بھی " استعمال کرلوں گا اور وُہ بھی شروع شروع میں کسی غیر مسیحی کیساتھ دوران گفتگو ایسا کرونگا لیکن تا حیات یہی اصطلاح استعمال نہیں کروں گا۔ میں ذاتی طور پر’’ مسیح اِبن مریم ، حضور المسیح " کی اصطلاحات استعمال کرتا ہوں ۔ یسوع مسیح پر عیسی علیہ السلام کہہ کر سلامتی بھیجنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ وخود سلامتی بن کر آئے اور آپ نے کہیں بھی نہیں کہا کہ تم میرے لئے سلامتی کی دُعا کرو ۔ لفظ " عیسی مسیح ‘‘کی وجہ سے آپ ٹھوکر نہ کھا ئیں کیونکہ عیسیٰ  لفظ کے معنی بھی نجات دہندہ ہی کے ہیں۔ فیروز الغات ضرور دیکھیں ۔

 حرف آخر کے طور پریہ  کہوں گا کہ اچھا ہوگا کہ کسی مسلمان دوست کیسا تھ ابتدائی چند ملاقاتوں میں مسیح ابنِ مریم، حضور المسیح ، ربنا المسیح اور عیسی المسیح کی اصطلاحات استعمال کریں اور علیہ السلام استعمال نہ کریں۔ ماسوا یسوع مسیح کے باقی سب کیسا تھ آپ چاہیں تو علیہ السلام کی اصطلاح استعمال کر سکتے ہیں اور یہ اُن کی ضرورت بھی ہے۔

انجیل مقدس میں جس یسوع مسیح کا تذکرہ ہے وہ عیسی علیہ السلام نہیں ہیں۔ لہذا اہل کلییا  نہ تو عیسائی ہیں اور نہ ہی کسی عیسی ٰ کو جانتے اور مانتے ہیں۔ اہل کلیسیا یسوع مسیح کو جانتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ  ’’مسیحی " کہلاتے ہیں۔ جب غیر مسیحی  ہمیں عیسائی کہتے ہیں تو ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کیوں کہتے ہیں جبکہ ہم کسی  عیسی کو جانتے  اور نہ ہی  مانتے ہیں۔ جس عیسی ٰ کو میرے مسلمان دوست جانتے ہیں وہ انجیل مقدس کا یسوع مسیح نہیں ہے۔ یسوع مسیح سے متعلق انجیل مقدس میں آیا ہے کہ ہر ایک گھٹنا اس کے حضور جھکے گا اور ہر ایک زبان اقرار کرے گی کہ یسوع مسیح خداوند ہے۔ لہذا ہمیں عیسائی کہہ کر ہمارا مذاق نہ اڑایا جائے ۔ میری دعا ہے کہ خداوند ہمیں اپنا طریقہ کار بخشتے تا کہ اس کے مطابق ہم غیر مسیحیوں کو خو شخبری سنا سکیں ۔ ( آمین )

Back to Questions