Home
Questions And Answers

سوال: کیا شیطان کی معافی کی کوئی صورت ہے؟

جواب:

 میں سیمی ہوں اور میرا سوال یہ ہےکہ شیطان جانتا ہے کہ مجھے سزا ملے گی اور اگر وُہ جانتا ہے تو پھرتوبہ کر کے خُد ا کی طرف رجوع کیوں نہیں لاتا اور اگر رجوع  لائے تو کیا اس کی معافی ہے؟ کیونکہ خدا تو اقرار پر معاف کر دیتا ہے۔

 عزیزہ میں ممنون ہوں کہ آپ نے یہ سوال پوچھا مجھے معلوم نہیں کہ آپ کو یہ سوال پوچھنے کی کیا ضرورت پڑی تاہم بات یہ ہے کہ خدا نے زوال پذیر انسان کی نجات کیلئے ازل سے منصوبہ بنایا جو یسوع مسیح کے وسیلہ سے پورا ہوا۔ یہ منصوبہ خدا کی طرف سے اولا و آدم کیلئے ہے فرشتوں کیلئےنہیں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ شیطان اصل میں ایک فرشتہ ہی تھا۔ اور بد رُو حیں وہ گرے ہوئے فرشتے ہیں جو اس کی پیروی میں ہو چُکے تھے۔ یہ بات تو آسمان کی ہے اور میں بھی لوسیفر اور اس کے پیروکاروں کی بات کر رہا ہوں۔ یہ اُن گِرے  ہوئے فرشتوں کا گروہ ہے جنہوں نے آسمان پر بغاوت کی اور خدا نے انہیں زمین پر پٹک دیا ۔ آپ کے سوال کے پہلے جزوکے مطابق اگر شیطان خدا کی طرف رجوع لا تا تو وُہ شروع ہی سے باغی نہ ہوتا ۔ وہ کبھی بھی خدا کی طرف رجوع نہیں لائے گا اور چونکہ وہ جانتا ہے کہ میری منزل کا تعین پہلے ہی سے ہو چکا ہے اس سب سے وہ تمام لوگوں کو بھی اپنے ساتھ وہاں ہی لے جانا چاہتا ہے۔ وہ بہت حد تک اپنے مشن میں کامیاب بھی ہے۔

میں نے یہ عرض کیا ہے کہ شیطان کی منزل کا تعین پہلے ہی سے ہو چکا ہے۔ براہ کرم اس کیلئے در جذیل حوالہ جات دیکھیں ۔

              اور میں تیرے اور عورت کی نسل کے درمیان اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالوں گا۔وہ تیرے سر کوکُچلیگا گا اور تو اس کی ایڑی پر کاٹے گا۔ پیدائش ۳: ۱۵

              پھر وہ بائیں طرف والوں سے کہے گا اے مامونو میرے سامنے سے اس ہمیشہ کی آگ میں چلے جاؤ جو ابلیس اور اسکے فرشتوں کیلئے تیار کی گئی ہے۔متی ۲۵: ۴۱

پھر میں نے ایک فرشتہ کو آسمان پر سے اترتے ہوئے دیکھا جس کے ہاتھ میں اتھاہ گڑھے کی  کنجی اور ایک بہت بڑی زنجیر تھی۔ اس نے اس اژدھا یعنی پرانے سانپ کو جو ابلیس اور شیطان ہے پکڑ کر ہزار برس کیلئے باندھا اور سے اتھاہ گڑھے میں ڈال کر بند کر دیا اور اس پر مُہر کر دی تا کہ وُہ ہزار برس کے پورے ہونے تک قوموں کو پھر گمراہ نہ کرے۔ اس کے بعد ضرور ہے کہ وہ تھوڑے عرصہ کیلئے کھولا جائے۔مکاشفہ ۲۰: ۱ ۔ ۳

شیطان توک بھی بھی ہار ماننے کیلئے تیار نہیں ۔ بعد از خدا وُہی سپر پاور ہے اور اگر وُہ ہار مان بھی جائے تو کفارہ انسان کیلئے دیا گیا فرشتوں یا شیطان کیلئے نہیں۔ شیطان کی منزل کے بارے میں پہلے ہی سے فیصلہ ہو چکا ہے اور یہ تبدیل نہیں ہو سکتا۔ جب یہ لکھا ہے کہ اس کیساتھ کیا اور کب ہو گا تو پھر خدا اپنی باتوں سے پھرتا نہیں ۔ ابلیس جس نے خدا اور انسان کی رفاقت تو ڑدی اُس کی معافی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے اور ویسے بھی میں عادل نہیں کہ اس کے بارے میں اپنی طرف سے فتوی دُوں ۔ لہذا خدانے انسان کے گناہ کا کفارہ ادا کیا ہے فرشتوں کے گناہ کا نہیں۔ اس خیال کی بائبل مقدّس بھی تائید کرتی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ کسی حد تک آپ کو بات سمجھ آہی گئی ہو گی۔ خداوند آپ کربرکت بخشے ۔ آمین۔

Back to Questions