Home
Questions And Answers

سوال: کیا عہد عتیق کا خدا جنگجو خُدا ہے؟

جواب:

عہد عتیق اور عہد جدید کا خدا کیوں مختلف نظر آتا ہے ؟ یوں لگتا ہے کہ عہد عتیق کا خدا انتہائی ما ردہاڑ کرنے والا اور بڑا ظالم ہے۔ جبکہ عہد جدید کا خدا معاف کرنے والا قربانی دینے والا اور بڑا امہربان نظر آتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ کیا یہ دو مختلف خدا نہیں یا ایک ہی ہے؟۔

 میرے ایک نہایت ہی محترم دوست جو ایک اجنبی ویس میں مقیم ہیں جن کیساتھ مجھے پندرہ دن گزارنے کا اتفاق ہوا اور ہماری رفاقت بہت ہی خوب رہی ۔ انہوں نے مجھ خاکسار کی خدمت کر کے خدا کی طرف سے بہت بڑا اجر بھی پایا ۔ ہم نے مسیحی ایمان پر بہت گفت و شنید کی اور اب بھی کرتے ہیں۔ ان کے ایک دوست نے ان سے یہی سوال پوچھا جس پر بندہ ناچیز قلم اٹھا رہا ہے ۔ میں نے سوچا کہ اس سوال کا جواب ہر مسیحی  گواہ کی ضرورت ہو سکتی ہے اس لئے اچھا ہوگا کہ اسے تحریری صورت دی جائے۔

 سب سے پہلے تو یہ بات ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ خدا ایک ہی ہے اور وہ خدائے لاتبدیل ہے۔ خداکئی نہیں ہیں  اور نہ ہی ہم اہل کلیسیا خداؤں کی کثرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ جس خدا پر ہمارا ایمان ہے وہ صادق القول ہے اور وہ کل آج بلکہ ابد تک یکساں خدا ہے۔ جو خدا عہد عتیق کا ہے وہی عہد جدید کا بھی خدا ہے۔ میں بھی اسی طرح سوچا کرتا تھا کہ عہد عتیق  کا خدا اس قد رسخت اور قہار کیوں ہے ۔لیکن اس سوال کا جواب جاننے کیلئے مجھے نسل انسانی کی تاریخ کا مطالعہ کرنا پڑا جس کا ریکارڈ ہمیں تو رات شریف اور انجیل مقدّس میں ملتا ہے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تو رات شریف زبور شریف اور انجیل شریف کے مطابق انسانی تاریخ کا ریکارڈ پند رہ سو سالوں پر محیط ہے جو ان کتب سماویہ میں مندرج ہے اور نسل انسانی کے عروج وزوال کا مطالعہ کرنا  بھی ضروری ہے۔

 خدا کی  قطعاً یہ تمنا نہیں رہی کہ انسان کو فناہ کر ڈالے ۔ اس نے انسان کو اپنی عبادت و رفاقت کیلئے بنایا ۔ اس نے اِنسان کے سامنے لعنت و برکت، زندگی اور موت دونوں رکھ دیں کہ انتخاب کرلے کہ تو کیا انتخاب کرتا ہے۔ آپ کو میرے ساتھ  متفق ہونا پڑے گا کہ اِنسان نے راہ ِفرار اختیار کی اور خدائے قادر مطلق کے خلاف بغاوت  کر کے خود سزا کو خود گلے لگایا ۔ حضرت آدم نے ایسا کیا، حضرت نوح کے زمانے کے لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ حضرت  لوط کے وقت کے لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا اور کلام خدا اس بات کا گواہ ہے کہ بنی اسرائیل نے بار بار خدا کے بر خلاف بغاوت کی اور وُہ سزا کے مرتکب ہو ئے اور سزا کی وجہ یہ تھی کہ خدا ان کو پیار کرتا تھا کیونکہ وہ  چُنی ہوئی قو م تھی اور خدا جس کو اپنابنا لیتا ہے اس کی کانٹی چھانٹی بھی کرتا ہے۔ میرے والدین اپنے بچوں کی اصلاح اور تربیت کیلئے چھڑی کا استعمال کرتے تھے لیکن ہماری بر بادی کیلئے ایسا نہیں کرتے تھے۔۔ خدا بھی بنی اسرائیل کو قوموں میں  نرالادیکھنا چا ہتا تھا جس سبب سے ان کی خوب کانٹی

چھانٹی کی۔ 

جب ہم عہد عقیق میں تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ خدا غیر اسرائیلیوں کے برخلاف اپنا ہاتھ تانے ہے۔ خدابنی اسرائیل ہی سے بنی نو انسان کی نجات کا وسیلہ پیدا کرنے کا فیصلہ کر چکا تھا یہی تو سبب تھا کہ اس نے بنی اسرائیل کو تمام قوموں میں سے چن کر علیحدہ کر لیا تھا۔ آسان لفظوں میں یہ کہ دنیا کے نجات دہندہ کی آمد میں جو  لوگ رکاوٹ کا سبب بنے خدا ان کے بر خلاف ہو گیا۔ چنانچہ اس نجات دہندہ کے آنے میں  اِن مخالف قوموں کو راستے سے ہٹایا جنہوں نے بنی اسرائیل کے خلاف سر اٹھایا تھا۔ اگر دنیا کے نقشے پر اسرائیل دیکھا جائے تو بالکل معمولی سا ملک نظر آئے گا مگر سب سے امیر ترین ملک اسرائیل ہی ہے۔ اس کے پاس ہر طرح کی طاقت ہے۔ خدا کے تمام تر عہود اسرائیل کے ساتھ ہی تھے۔ آج بھی مخالفین اسرائیل ایڑی چوٹی کا زور لگا چکے ہیں اور اس کا بال بھی پھیکا نہیں ہونے پایا کیونکہ خدا اسرائیل کیساتھ ہے۔ ساری بات کا نچوڑ یہی ہے کہ و ہ تمام لوگ جو نجات دہندہ  کے آنے میں رکاوٹ کا سبب بنے ،خُدا نے انہیں راستے سے ہٹایا اور عہد عتیق میں خدا ہمیں اس طرح سے نظر آتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ خدا سب سے بڑی سپر پاور ہے جس کا مقابلہ نہ مشرق کر سکتا اور نہ ہی مغرب کر سکتا ہے۔

اب نجات دہندہ آجاتا ہے تو عہد جدید کی بات چلتی ہے۔ یادرکھیں خدا اوہی ہے لیکن جس کو آنا تھا وہ آچکا ہے جس سبب سے اب اُس نے ایک وقت ٹھہرایا ہے کہ ہر بشر کی عدالت اُسی نجات دہندہ کے وسیلہ سے کرے گا۔ اُس سے پیشتر وہ ایسا نہیں کرے گا جیسا اس نے عہدعتیق میں کیا ہے۔

 ہاں عہد جدید میں ابتدائی کلیسیا کو جھوٹ کے وائرس سے پاک کرنے کیلئے خدا نے حننیاہ اور سفیرہ کو اٹھا لیا۔ مکاشفہ کی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ تمام نا فرمان لوگوں کیساتھ ایسا کرے گا۔ وہاں بھی ایک ایسی جنگ کا ذکر ہے۔ خُد اوہی ہے لیکن اَب تحمل کیئے ہے تا کہ وَقت مقررہ پر ہر شخص کو اُس کے مطابق اجر یعنی بدلہ دیا جائے۔ یادرکھیں کہ خدا ظالم نہیں ہے۔ انسانی اعمال و افعال خود غضب الہی کوپکارتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اَب آپ اِس سوال کا جواب سمجھ گئے ہوں گے ۔ (آمین )

Back to Questions