Home
Questions And Answers

سوال: کیا زہر پی کر خدا کو آزمایا جا سکتا ہے؟

جواب:

مرقس ۱۶: ۱۷ ۔ ۱۸ کے مطابق مجھے لوگ کہتے ہیں کہ انجیل شریف میں لکھا ہے کہ حضورالمسیح نے فرمایا " ایمان لانے والوں کے درمیان یہ معجزے ہوں گے ، وہ میرے نام سے بدروحوں کو نکالیں گے نئی نئی زبانیں بولیں گے، سانپوں کو اٹھا لینگے اور اگر کوئی زہریلی چیز پئیں گے تو انہیں کچھ ضرر نہ پہنچے گا۔ وہ بیماروں پر ہاتھ رکھیں گے تو اچھے ہو جا ئینگے ۔ لہذا اگر تم زہر پی لوتو تمہیں کچھ نہیں ہوگا اور پھر آزمانے کی خاطر یہ کہتے ہیں کہ اگر تمہارامسیح  پر ایمان ہے تو یہ زہر لو اور ابھی پیو، تب معلوم ہوگا کہ تمہارا ایمان سچا ہے کہ نہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اہل  کلیسیا کو ایسا کر لینا چاہیئے ؟

اس سوال میں محض جذبات ابھارنے کے بجائے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر رُوح سے بھی اور عقل سے بھی کام لیا جائے تو اس سوال کا جواب سمجھنا نہایت ہی آسان ہے۔ بلا شک یہ بات انجیل شریف میں لکھی ہے لیکن یہ جاننابھی  ضروری ہے کہ جب یسوع مسیح نے یہ بات کہی تو اِس وقت اس کا کیا مطلب تھا۔ یا درکھیں کہ انجیل مقدّس میں ایسا ہر گزنہیں لکھا کہ’’ زہر پی کر خدا کو آزماؤ‘‘ ۔ یہ کوئی جادوٹو نا نہیں ہے کہ مصروف روڈ پر نکل آئیں اور کہیں کہ دیکھتا ہوں کہ خدا مجھے ٹرک کے نیچے آنے سے بچاتا ہے کہ نہیں ۔ صاف ظاہر ہے کہ حادثہ ہوگا اور ہلاک ہو جائے گا۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ مسیح نے ابلیس سے کہا تھا کہ لکھا ہے خداوند اَپنے خدا کی آزمائش مت کرو۔

جو شخص یہ سوال کرتا ہے وہ گویا نا سمجھ ہے اور ہمیں خدا کو آزمانے کیلئے کہہ رہا ہے جبکہ خدا ایسا کرنے سے منع کرتا ہے ۔ اصل میں اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر آپ اِنجیل کا پیغام سنانے کیلئے جاتے ہیں اور واقعی خدا کے ساتھ وفا دار ہیں اور خدا کی طرف سے بلاہٹ اور اس کے منصوبے کے تحت جاتے ہیں تو اگر کوئی شخص آپ کو زہر پلا بھی دیتا ہے اور آپ کو معلوم نہیں کہ یہ زہر ہے تو اس صورت میں پی لینے والے کو کچھ ضر ر نہیں پہنچے گا۔ لیکن جان بوجھ کر خدا کو آزمانا مناسب نہیں ہے کیونکہ یہ خدا کا امتحان کرنا ہے۔ میں تو نہیں پیوں گا۔ بنی اسرائیل نے خدا کو آزمایا اور وُہ ان سے بیزار ہوا اور ان میں سے بہت بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔

ہمیں ایک اور بات بھی یا درکھنا ہے کہ کیا خدا کی مرضی ہے کہ میں زہر پیوں ؟ کیا میرے زہر پینے سے کسی کا فائدہ ہوگا؟ کیا اس کے سبب سے خدا کا جلال ظاہر ہوگا ؟ اگر میں ایسا کرتا ہوں تو لوگ مجھے احمق کہیں گے یا دانشمند کہیں گے؟ مسیحی مومنین میں سے یقینا ایسا کوئی بھی نہیں  کریگا ۔ لہذا قارئین سے گزارش ہے کہ وہ سوال کی نوعیت کو سمجھیں اور سوال کرنے والے کے ذہن کو بھی پڑھ لیں۔ خُداوند ہم سب کو حکمت اور اور خِرد کی روح عنایت فرمائے ۔ آمین۔

Back to Questions