Home
Questions And Answers

سوال: کیا مسیحیوں کوغیر مسیحیوں سے شادی کرنا روا ہے؟

جواب:

بائبل مقدّس کے مطابق کیا مسیحی  لڑکے یا لڑکی کو کسی غیرمسیحی سے شادی کرنے کی اجازت ہے؟

یہ نہایت ہی اہم سوال ہے اور اکثر سننے میں آتا ہے کیونکہ کی کلیسیا سے غیر مسیحی  یہ کہتے ہیں کہ ہمیں اجازت ہے کہ آپ سے شادی بیاہ کر سکتے ہیں لیکن صرف  مسیحی لڑکی سے، لڑکے سے نہیں ۔ اس سوال کاجواب  دور حاضر میں نہایت ہی اہم ضرورت ہے۔ کئی  مسیحی نو جوان اپنے ایمان میں مضبوط نہ ہونے کے سبب سے اپنی بیڑیاں جلا  کر آگ میں چھلانگ لگا دیتے ہیں اوریہوداہ بن کرخواہشِ نفس سے مغلوب ہو کر خداوند یسوع مسیح کا بھی سودا کر بیٹھتے ہیں ۔ وُہ اَپنا مقام تو کیا اَپنے والدین  کی عزت تو کیا مسیح یسوع  کو بھی چند ٹکوں کے عوض  سر عام نیلام کر دیتے ہیں۔عہدِ عتیق میں خدا بنی اسرائیل کو خبر دار کیا تھا کہ وہ غیر قوموں یعنی بے ایمانوں میں بیاہ شادی نہ کریں ( گنتی ۱۲: ۱، خروج ۳۴: ۱۲ ۔ ۱۶،  استثنا ۷: ۱ ۔ ۴، عزراہ ۱۰: ۲۔ ۱۳، نحمیاہ ۱۳: ۲۵ ۔ ۲۷، ۱ سلاطین ۱۱: ۱ ۔ ۱۰،  ملاکی ۲: ۱۱، ۱ کرنتھیوں ۷: ۳۹)۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کا ایمان اور عقید ہ  وُہ نہیں جو کسی مسیحی کا ہے اور یہ بھی یادرکھیں کہ اس طرح کی نافرمانی کی سزا تیسری اور چوتھی پُشت تک ملتی رہتی ہے ( خروج ۲۰: ۳۔ ۵ )۔

 چونکہ عہد عتیق اور عہد جدید دُونوں کا ایک ہی مصنف ہے جس کی وجہ سے و ہ عہدِ  جدید میں بھی غیر نجات یافتہ لوگوں سے ازدواجی تعلق قائم کرنے سے منع فرماتا ہے ۔ ۲ کرنتھیوں ۶: ۱۴ ۔ ۱۸ )  کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمانداروں کو ایسا کرنا زیبا نہیں ہے۔ ایماندار کی شادی ایماندار سے ہی ہونا چاہیئے اور میں تو یہاں تک کہوں گا کہ اس آیت کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایماندار مسیحی کو کسی بے ایمان مسیحی سے بھی  شادی نہیں کرنا چاہیئے ۔ کیونکہ یہ کلام خُدا کے بر خلاف ہے۔ اگر دونوں میں سے ایک خدا پرست ہو اور دوسرا نہیں تو دونوں کی گاڑی نہیں چلے گی۔

میں نے دیکھا کہ مسیحی ایماندار کسی غیر نجات یافتہ کے دام محبت میں پھنس جاتے ہیں اور پھر کسی غیرمسیحی سے  رسم نکاح بھی ادا کروا لیتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ غیر مسیحی رسم نکاح بھی اپنے طریقے سے کرے گا نہ کہ مسیحی عقیدہ کے مطابق کرے گا۔ اس پر پردہ ڈالنے کیلئے و ہ کئی بہانے بھی بناتے ہیں اور جواز یہ ہوتا ہے کہ بعد میں اسے مسیحی کر لیا جائے گا ۔ جبکہ بعد میں کبھی ایسا نہیں ہوتا اور پھر ہم ہیں بھی کون جو کسی کو کنورٹ کر سکتے ہیں ۔ یہ پاک  رُوح  کا کام ہے اور اُسے ہی یہ کام  کرنے دیا جائے ۔ ہم کبھی کسی کومسیحی  نہیں کر سکتے ۔ یہ محض بہانہ بازی کی روح ہے اس کے علاوہ اور کُچھ بھی نہیں۔ اگر آپ نے مندرجہ بالا حوالہ جات کی تلاوت کی ہو تو معلوم ہو گیا ہو گا کہ جب سلیمان نے ایسا کیا تو خدا اُس سے خوش نہیں ہوا بلکہ ناراض ہوا۔ اس لیے کسی غیر نجات یافتہ کیساتھ شادی کے خواب دیکھنا سراسر بر بادی ہے۔ میں آپ کو ایک مشورہ بھی دوں گا اور وُہ یہ کہ میرا ایک کتا بچہ بنام ’’دُور کی نظر دختر ان کلیسیا کے نام ‘‘ضرور پڑھیں جو میرے ویب سائٹ پہ اُردو کتب میں موجود ہے۔ اگر آپ کو مندرجہ بالا بیماری کے وائرس ہیں تو یہ کتاب آپ کیلئے اینٹی وائرس کا کام کرے گی ۔ خداوند آپ کو برکت بخشے ( آمین )۔

Back to Questions