Home
Questions And Answers

سوال: کیا مسیحی خاتون بناؤ سنگھار کر سکتی ہے؟

جواب:

کیا مسیحی خاتون بناؤ سنگھار کر سکتی ہے؟

خدا کے کلام کے مطابق جہاں تک میں سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ ایماندار خاتون خدا کے کاموں میں مصروف عمل رہتی ہے اور اس کے پاس بناؤ سنگھار کی فرصت ہی نہیں ہوتی لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ وہ تارک الدُنیا ہوتی ہے ۔ وہ اس معاشرے کا حصہ ہے اور زیورات عورت کیلئے ہی ہوتے ہیں مرد کیلئے نہیں ہوتے۔ لیکن  آئیں  دیکھیں کہ بائبل مقدس اس بارے میں کیا کہتی ہے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ زیورات یا ظاہری بناؤ سنگھارے بائبل مقدس منع کرتی ہے اور وہ  ۱ پطرس ۳: ۱ ۔ ۶ کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔ اگر اس حوالے کے سیاق و سباق اور تو اریخی پس منظر کو دیکھا جائے تو یہاں زیورات پہننے سے منع نہیں کیا گیا بلکہ یہاں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خدا پرست خواتین ان ہی کاموں میں مشغول نہیں رہتیں کہ ہر وقت اپنے آپ کو سنوارتی ہی رہیں۔ وہ ان باتوں کو ترجیح نہ دیں اور اپنی نمائش بھی نہ کریں بلکہ وہ اپنے شوہروں کے تابع رہیں اور ان کی فرمانبرداری کریں۔

اس کا یہ بھی مطلب ہر گو نہیں کہ خواتین گھر میں گندی مندی بن کر رہیں ۔ جی نہیں ایسا نہیں ہے۔ خواتین گھر کی رونق ہیں ۔ اس لئے خواتین کا گھر میں بھی صاف ستھرا ہونا اور صاف ستھر الباس پہننا ضروری ہے ۔ وُہ گھر پہ بھی عام ساز یوراگر پہننا چا ہیں تو پہن سکتی ہیں لیکن جب باہر جا ئیں تو حسب دستور ومعمول جیسا ان کا معاشرہ اجازت دے پہن سکتی ہیں۔ یادرکھیں کہ یہ  ریا کاری نمائش اور دکھاوے کیلئے نہ ہو۔ اگر ایسی روح ہو گی تو پھر یا در کھیں کہ شادی سے واپسی پر ڈا کو نقب لگا سکتے ہیں اور ایسا ہوتا بھی ہے۔ زائد الضرورت میک اَپ کرنے سے آپ معاشرے کی عقابی نگاہ سے بچ نہیں سکتے ۔ وُہ آپ پر کسی بھی طرح کا الزام لگا سکتے ہیں۔ لہذا محتاط رہنا ضروری ہے۔

 ابتدائے زمانہ سے ہی زیورات عورت کی زینت رہے ہیں۔ حضرت ابرہام جب اپنے نوکر کو بھیجتے ہیں کہ ان کے صاحبزادے حضرت اضحاق کیلئے بیوی ڈھونڈھ کر لائے تو   وُہ ساتھ سونے کے دوکڑے اور ایک نتھہ لے کر جاتا ہے جو حضرت ربقہ کو پیش کرتا ہے۔ اگر زیورات ممنوع ہوتے تو شروع ہی سے اس کی مثال دیکھتے (یسعیاہ ۳: ۱۶ ۔ ۲۶) بھی دیکھیں ۔ یہاں گردن کش اور متکبر دختران صیون کی بات ہو رہی ہے۔ اِس طرح کے زیورات اور بنائو سنگھار کی  میں بھی مخالفت کرتا ہوں۔ یسعیاہ ۶۱: ۱۰ ۔ ۱۱) میں دلہن کے سنگھار کی مثال پیش کی گئی ہے۔ اگر زیور منع ہوتا تو خد ابذات خود اس کی مثال اپنے نبی کی معرفت کبھی نہ دیتا۔ یرمیاہ

۲: ۳۲  میں بھی عورت کے زیورات کی مثال دی گئی ہے۔اگر زیورات منع ہوتے تو اِن کی مثال اچھے معنیٰ میں کبھی نہ دی جاتی۔ مکاشفہ ۲۱: ۲ میں بھی دُلہن کے سنگھار کی مثال دی گئی ہے کہ نیا بر شلیم ایسا ہی سجا ہوا ہوگا اور یہ مثال خد ابذات خود پیش کرتا ہے۔ لہذا میں سمجھتا ہوں کہ زیورات خود برے نہیں لیکن ان کا استعمال بُرا ہو سکتا ہے۔

 میں شادی شدہ خواتین پر کسی طرح کی کوئی پابندی لگانے کا مجاز نہیں کیونکہ وُہ اپنے شوہر کیلئے بناؤ سنگھار کرتی ہیں اور انہیں اچھا بھی لگتا ہے لیکن میں دختر ان کلیسیا سے عرض کروں گا کہ جب تک الہی انتظام کے مطابق آپ ازدواجی رشتے سے مسلک ہو نہیں جاتیں اس وقت تک زائد الضرورت بناؤ سنگھار اور میک اَپ کرنے سے اجتناب کریں ۔ کیونکہ بائبل مقدس میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔خداوند آپ کو برکت بخشے ( آمین ) 

Back to Questions