Home
Questions And Answers

سوال: ایلی ایلی یا الوہی الوہی لما شبقتنی میں تضاد کیوں؟

جواب:

متی ۲۷: ۴۶ میں ایلی ایلی  لما شبقتنی اور مرقس ۱۵: ۳۴،  میں الوہی الوہی لما  شبقتنی ہے۔ ان دونوں حوالہ جات میں تضاد ہے۔ اگر یسوع خدا تھا تو صلیب پر کس کو پکار رہا تھا ؟ اور اگر کفارہ ہونے کیلئے آیا تھا تو پھر گلہ کیوں کر رہا تھا ؟ ۔ اس سوال کی وضاحت کیجئے کیونکہ یہ اکثر پوچھا جاتا ہے۔

 یسوع کی زبان مبارک سے صلیب پر جو کلمات ادا ہوئے ان میں سے مندرجہ بالا کلمات زبور ۲۲: ۱ کی پیشینگوئی کی تکمیل ہیں۔ یادر ہے کہ پہلے بھی کہا گیا اور اب بھی کہہ رہا ہوں کہ مسیح یسوع کیسا تھ جو کچھ بھی ہواؤہ انبیا کی پیشینگوئیوں کے عین مطابق ہوا۔متی میں عبرانی سے ترجمہ ہوا ہے اور مرقس میں ارامی زبان میں ترجمہ ہوا ہے ۔ ارامی وُہ زبان ہے جو مسیحا اور آپ کے شاگرد (حواری ) بولا کرتے تھے ۔ ان بیانات میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ دُونوں بیانات کے معنی ایک ہی ہیں۔

 آپ کا دوسرا سوال یہ ہے کہ وہ صلیب پر کس کو پکار رہا تھا اور اگر کفارہ ہونے کیلئے آیا تھا تو پھر گلہ کس بات کا تھا ؟ اس سوال کا جواب سمجھنے کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ یسوع مسیح میں دو ذاتیں تھیں یعنی الہی ذات او ر  انسانی ذات ۔ خدا کا ازلی کلام ہونے کے سبب سے مسیحا ازل سے ہی خدا میں تھے ( یوحنا ۱: ۱ ۔ ۱۴) لیکن بنی نو انسان کے گناہوں کا کفارہ ہونے کیلئے خدا کے کلام کو مجسم ہونا پڑا۔ اس کے علاوہ انسان کی مخلصی کا کوئی چارہ نہ تھا۔ بنی نو انسان کے گناہوں کا عوضی ہونے کیلئے کسی معصوم انسان کے قربان ہونے کی ضرورت تھی کیونکہ اس مقصد کیلئے حیوانات کی قربانیاں ناکافی تھیں (عبرانیوں ۱۰باب ) کا مطالعہ کیجئے۔

  اس تعلق سے میں آپ سے درخواست کروں گا کہ میری تیار کی ہوئی ایک وڈیو دیکھئے تا کہ یہ بات آپ کو اور بہتر طریقہ سے سمجھ آ جائے ۔ اس وڈیو کا نام’’ علم الکفارہ ‘‘ہے اور میری ویب سائٹ پر لنک موجود ہے۔ تاہم مسیحا نے الہی ذات کا اپنی ذات کیلئے کبھی بھی استعمال نہیں کیا بلکہ دوسروں کی بھلائی کیلئے کیا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب مسیحا کی گرفتاری ہوئی تو ایک شاگرد سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ اگر میں چاہوں تو فرشتوں کے بارہ تُمن اپنی مدد کیلئے بلا سکتا ہوں لیکن آپ نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ جب شاگر دطوفان میں گھرے ہوئے تھے اور سمجھتے تھے کہ ہم ہلاک ہونے والے ہیں تو اس وقت مسیحا اپنی الہی ذات کا استعمال فرماتے ہیں۔ آپ نے اپنے دست قدرت اور الٰہی اختیار سے  آندھی اور پانی کی طلاطم خیز موجوں کو موقوف کردیا ۔ چار دن کے مردے کو زندہ کر دیا اور چند روٹیوں اور مچھلیوں سے ہزاروں کو سیر کر دیا۔

 صلیب پر مرنے والی شخصیت الٰہی شخصیت نہیں تھی۔ الہی ذات کو موت نہیں ہے۔ خدا کبھی بھی نہیں مرتا وہ ازل سے ابد تک خدائے محمود ہے۔ فلپیوں ۲ باب کے مطابق الٰہی ذات  نےانسانی جامہ پہنا جس کا مقصد یہ تھا کہ وہ بنی نو انسان کیلئے مر جائے ۔ لہذا جو صلیب پر موادُہ ” بیٹا " ہے جو اس سے کلمہ کی صورت میں نکلا ۔ لہذا یسوع مسیح بشری جامہ میں صلیب پر دُکھ کے عالم میں خدا باپ سے مخاطب ہو کر کہہ رہے تھے کہ اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ۔ انسانی ذات ہونے کی حیثیت سے وہ روئے بھی ، انہیں بھوک بھی لگی وہ  تھک بھی جاتے تھے اور سونا بھی پڑتا تھا۔

حرف آخر کے طور پر یوں کہوں گا کہ صلیب پر خد ا نہیں بلکہ انسان موا ہے اور انسان ہوتے ہوئے انہیں درد اور تکلیف بھی محسوس ہوئی۔ یہی سبب تھا کہ بیٹا ہونے کی حیثیت سے آپ الہی ذات کو باپ کہہ کر پکار رہے تھے ۔ یاد رکھیں کہ اگر وہ چھوڑے نہ جاتے تو بنی نو انسان کی  مخلصی کیلئے اور کوئی چارہ نہ ہوتا ۔ جان لینے کیلئے تو بہت آئے لیکن جان دینے کیلئے صرف واحد حضور المسیح ہی ہیں جو تشریف لائے ۔ صلیب پر بیٹے کا  دُکھ دیکھ کر الہی ذات بھی اپنا چہرہ پھیر لیتی ہے ۔۔ یہ خدا کا اظہار محبت ہے کہ اس نے اپنے کلمہ کو جسم دیا تا کہ ہماری خاطر مر جائے اور اس کے وسیلہ سے ہم ہمیشہ کی زندگی پائیں ۔ خداوند آپ کو برکت بخشے ( آمین ) 

Back to Questions