Home
Questions And Answers

سوال: کیا انبیاء معصوم ہوتے ہیں؟

جواب:

 عصمت الانبیا یعنی انبیا کرام کے بے گناہ ہونے یا نہ ہونے سے متعلق آپ کیا کہیں گے کیونکہ میرے کئی دوست کہتے ہیں کہ انبیا معصوم ہوتے ہیں جبکہ کئی اس بیان کیساتھ متفق نہیں ۔

 میرے دوست! اس ضمن میں بندہ ناچیز تو کسی بھی قسم کا فتوی دینے سے رہا کیونکہ خدا نے انبیا کرام کو بڑا مقام بخشا اور انہیں بڑی قدرت کیسا تھ اپنے جلال و بزرگی کیلئے قوموں میں گواہی دینے کیلئے مستعمل فرمایا اور ان کے وسیلہ سے کافی کام ہوا۔ میرے نزدیک انبیا کرام کی بہت بڑی شان ہے اور میں ان کی دل سے عزت کرتا ہوں ۔ ان کے وسیلہ سے کلام خدا بنی نوع انسان تک پہنچا۔ البتہ میں وُہ بیان کرتا اور اُس کے حوالہ جات بھی بیان کرتا ہوں جو تو رات شریف ، زبور شریف ، اور صحائف الانبیاء میں لکھا ہوا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ میں انجیل شریف سے بھی مدد لینا اپنی خوش بختی سمجھوں گا۔ میں صرف اِن انبیا کے بارے میں ہی بات کروں گا جن کا ذکرِ خیر پاک نوشتوں میں موجود ہے۔ اس حقیقت کوکبھی نہ بھولیں کہ بائبل مقدّس نے کسی کے بھی گناہ کو چھپا کر نہیں رکھا جب کہ دُوسری طرف انسان کی کمزوریوں کے ساتھ ساتھ اس کی خوبیوں کو بھی بیان کیا گیا ہے۔

 تو رات شریف میں لکھا ہے کہ حضرت آدم و حوا نے نافرمانی کی اور یوں انہیں باغِ عدن  سے باہر نکال دیا گیا ( پیدائش ۳ باب ) ۔ حضرت   ہابل کو ان ہی کے بھائی حضرت قائن نے قتل کر دیا ( پیدائش ۴ باب ) ۔ حضرت نوح نے مے نوشی کی اور حواس گنوا بیٹھے ( پیدائش ۹: ۲۰ ۔ ۲۹)،  حضرت لوط نے بھی مے پی کر ایسی حرکت کی جو کوئی بھی معاشرہ قبول نہیں کر یگا ( پیدائش ۲۹:۱۹ - ۳۸ )حضرت ابرہام نے خدا کے وعدے پر یقین نہ کرتے ہوئے حضرت ہاجرہ سے رشتہ جوڑا جو خدا کی مرضی کے بر خلاف تھا۔ اس کے علاوہ وُہ اپنی بیوی کو بہن بھی   کہہ بیٹھے تھے (پیدائش ۱۴:۱۲-۲۰) ۔ حضرت موسی نے قتل کیا ( خروج ۱۲:۲) اور چٹان کو مارنے کے سبب سے خدا کی نا فرمانی کی (گنتی ۱۱:۲۰-۱۲) ۔ حضرت ایوب اپنے جنم دن پر لعنت کرتے ہیں (ایوب ۱:۳-۱۹ ) ۔ حضرت داؤد نے قتل کروایا اور مقتول کی بیوی سے بدی کرنے کے بعد اس سے شادی کر لی (۲ سیموئیل ۱۱) ۔ حضرت یسعیاہ اقرار کرتے ہیں کہ میرے ہونٹ نا پاک ہیں (یسعیاہ ۶ باب ) اور اس طرح کی کئی اور مثالیں بھی ہمیں کلام مقدّس میں ملتی ہیں ۔ یاور کھیں کہ یہ باتیں میری نہیں ہیں بلکہ کتاب مقدّس کا مطالعہ کریں تو آپ کو خود ہی معلوم ہو جائے گا کہ حقیقت کیا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہر شخص آدم و حوا کی اولاد ہونے کے اعتبار سے پاک اور بے گناہ اور بے عیب نہیں ہے (رومیوں ۱۰:۳ اور پھر رومیوں ۲۳:۳) ۔ انسان کمزور ہے اور وُہ کامل نہیں ہے۔ اَنبیاء کرام بھی ہماری ہی طرح انسان تھے مگر خدا نے انہیں بڑی خاص خدمت کیلئے چن لیا تھا۔ دُعا ہے کہ خداوند ہمیں ان حقائق کے سمجھنے تھے خداوند کا فضل بخشے (آمین )۔ 

Back to Questions