Home
Questions And Answers

سوال: خدا کے بیٹوں و آدمی کی بیٹیوں سے مراد کیا؟

جواب:

پیدائش ۱:۶-۲ کے مطابق خدا کے بیٹوں اور آدمی کی بیٹیوں سے کیا مراد ہے؟ چونکہ یہ سوال اکثر پوچھا جاتا ہے لہذا اس کی وضاحت فرمائیں۔

عزیز قاری ! علمائے بائبل مقدّس کے نزدیک اس سوال کے دو ممکنہ جوابات ہیں۔ کچھ علما کے خیال کے مطابق یہاں پر خدا کے بیٹوں سے مراد وُہ فرشتے ہیں جو لوسیفر کی نافرمانی کے وقت اس کے ساتھ ہی آسمان  پر سے زمین پر پٹک دیئے گئے تھے۔ اگر اِس خیال کو درست مان لیا جائے کہ وُہ فرشتے ہیں خواہ وُہ گرے ہوئے فرشتے ہیں یا نہیں تو پھرہمیں یہ قبول کرنا پڑے گا کہ فرشتے شادیاں کرتے ہیں جب کہ  فرشتوں میں تو بیاہ شادی نہیں ہوتی ۔ اس بات کی تصدیق تو خود خداوند یسوع مسیح نے بھی فرمائی ہے۔ ویسے بھی کلام پاک میں کہیں بھی کسی مسز فرشتی کا ذکر بھی نہیں آیا۔ مجھے کسی بھی ایسی خاتون کا نام معلوم نہیں جس نے کسی فرشتہ سے شادی کی ہو اور نہ ہی مجھے یہ معلوم ہے کہ فرشتے بھی کسی کے داماد ہو سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کلام مقدّس میں ایسی انہونی باتوں کا ذکر نہیں ہے۔

خدا کے بیٹوں کے بارے میں زیادہ تر علما کا خیال یہ ہے کہ اس سے مراد ’’بزرگ حضرت سیت‘‘ کی اولا د ہے ۔ یہ جواب بہ نسبت کسی اور جواب کے میری سمجھ میں زیادہ بہتر اور معقول ہے۔

 میں کلام مقدّس کو بنیاد بناتے ہوئے یہ سجھتا ہوں کہ راستباز حضرت بابل کے اَپنے بھائی حضرت قائن کے ہاتھوں قتل ہو جانے کے بعد خدا نے حضرت آدم و حضرت حوا کو ایک اور بیٹا بخشا جن کا نام حضرت سیت تھا۔ حضرت سیت سے راستباز لوگوں کی نسل چلی ۔ یوں وُہ جو راستباز کی اولاد تھے انہیں خدا کے بیٹوں کا خطاب دیا گیا اور جونا راست تھے انہیں آدمی کے بیٹے کہا گیا۔ اس سے مراد آسان لفظوں میں یہ ہے کہ راستبازوں نے ناراستوں کیسا تھ ازدواجی رشتے قائم کئے جو نا ہموار جوا ہے اور اس جوئے کے لینے سے نہ صرف عہد عتیق میں بلکہ عہد جدید میں بھی سختی سے منع کیا گیا ہے۔ میری دلی دُعا ہے کہ خدواند ان سوالات کے جوابات سمجھنے میں اَپنے پاک روح کے وسیلہ سے آپ کی مدد فرمائے (آمین)۔ 

Back to Questions