Home
Questions And Answers

سوال: کیا یسوع مسیح خدا کا بیٹا ہے؟

جواب:

سوال یہ ہے کہ اللہ تعالی واحد ہے اور نہ تو اُس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ ہی وہ خود کسی سے پیدا ہوا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی شریک ہے۔ مسیحی تعلیمات کے مطابق خدا باپ ہے اور پھر اس کا بیٹا بھی ہے جس کا نام مسیح ابن مریم ہے۔ کیا یہ حقیقت ہے کہ حضور المسیح ابن خدا ہیں؟ اگر وُہ ہیں تو کیسے اور اگر نہیں ہیں تو کیسے؟

 یہ بھی ایک ایساہی سوال ہے جو میرے ایک مسلمان دوست نے پوچھا اور میرے دوست اکثر اس سوال کے بارے میں پوچھتے رہتے ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مسیحی لوگ حضرت عیسی کو جسمانی اعتبار سے خدا کا بیٹا کہتے ہیں۔ اس کیلئے وُہ دلیل قرآن حکیم کی سورۃ نمبر ۱۱۲ ،الاخلاص سے دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب قبل از اسلام بتانِ عرب کی پوجا کیا کرتے تھے اور لات، منات اور عُزیٰ جو کئی بُتوں  میں سے تین بہت تھے۔ ان کو اللہ کے بیٹوں سے منسوب کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ کئی لوگ فرشتوں کو بھی اللہ کے بیٹے اور بیٹیاں مانا کرتے تھے ۔ جب اسلام آیا تو اس نے اس تعلیم کی نفی کی اور میں اس لحاظ سے اسلامی تعلیم سے متفق ہوں کہ خدا کا جسمانی طور پر کوئی بیٹا یا بیٹی نہیں۔ اور نہ ہی خُد اجسمانی اعتبار سے باپ ہے۔

حضور المسیح کلمتہ اللہ ہونے کے اعتبار سے رُوحانی طور پر خدا کے بیٹے ہیں۔ ان کی ولادت میں کسی بھی مرد کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ آپ رُوح القدس کی تحریک یعنی خدا کی قدرت سے پیدا ہوئے ۔ آپ جیسی ولادت کسی دوسرے کی نہیں ہوئی ۔ خد ابذات خود آپ کے حق میں فرماتا ہے کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے میں خوش ہوں (متی ۳: ۲۷ ) ۔ یہ ان کئی حوالہ جات میں سے ایک ہے جن میں خُدابذات خود یسوع مسیح کو’’ بیٹا " کہہ کر پکارتا ہے ۔

میں نے اپنے دوست سے کہا کہ یسوع مسیح جسمانی معنوں میں ابن ِخدا نہیں ۔ لفظ ’’بیٹا ‘‘کے معنی ’’نکلا ہوا‘‘ کے  سمجھے جاتے ہیں۔ چونکہ  مسیح کلمتہ اللہ ہیں اور کلام خد ا ہونے کی حیثیت سے وُہ ازل سے خدا کے ساتھ ہیں اور ان ہی کے وسیلہ سے یہ عالم وجود میں آئے ۔ ( پیدائش ۱: ۳ ، اور یوحنا ۳:۱) مسیح کلام خدا ہونے کے سبب سے مجسم ہو کر اس دنیا میں تشریف لائے۔ جیسے حجاج کرام کو’’ فرزندان تو حید‘‘ کہا جاتا ہے یا جس طرح آپ میری بیٹی کو بیٹی کہہ کر پکارتے ہیں اور جس طرح اُم الکتاب اور مادر ِملت ہیں اور جس طرح ابو ہریرہ اور اُم المومنین ہیں اسی طرح رُوحانی اعتبار سے یسوع مسیح ابن ِخد ا ہیں۔

لیکن ایک حقیقت یا درکھیں کہ خدا نے ان میں سے کسی کیلئے مندرجہ بالا کلمات استعمال نہیں کئے کہ تو میرا پیارا بیٹا ہے۔ یہ الفاظ صرف اور صرف یسوع  مسیح  کیلئے ہی استعمال ہوئے ہیں۔ یہ بھی یا در کھیں کہ صرف یسوع مسیح ہی کے بارے میں کتب سماویہ یہ دعوی کرتی ہیں کہ وُہ بے گناہ اور معصوم ہیں اور یہی بات انہیں دوسرے انسانوں سے منفر دٹھہراتی ہے۔ حرف آخر یہی ہے کہ مسیح جسمانی پہلو کے اعتبار سے قطعی نہیں بلکہ رُوحانی پہلو  کے اعتبار سے خُدا کے بیٹے ہیں۔ اس سوال کے جواب کو مزید بہتر طور پر جاننے کیلئے میری ایک کتاب بنام ’’حضور مسیح خدا کا بیٹا،  نعوذ باللہ ‘‘کا مطالعہ کریں جو میری ویب سائٹ پر موجود ہے۔ میرا ایمان ہے کہ اس گولی سے آپ کو ضرور ہی فرق پڑ گیا ہو گا۔ یادر ہے کہ خدا نے بنی اسرائیل کے بارے میں بھی فرمایا کہ اسرائیل میرا پہلوٹھا ہے۔ اس کے یہ  معنیٰ ہر گزنہیں کہ جیسے یسوع مسیح ابن ِخدا ہیں ویسے ہی بنی اسرائیل بھی ہیں ۔ مگر دُنیا کی سب قوموں میں چناؤ کے اعتبار سے خدا نے ان کے حق میں یہ گواہی دی کہ اسرائیل میر ا پہلوٹھا ہے۔ میری دُعا ہے کہ خدا کرے کہ آپ  اس مضمون کو اچھی طرح سے سمجھ جائیں ۔ (آمین )۔ 

Back to Questions