Home
Questions And Answers

سوال: ناراستی کی دولت سے کیا مراد ہے؟

جواب:

لوقا ۱۶: ۹ میں ہے کہ اپنے لئے ناراستی کی دولت سے دوست پیدا کرو۔ اس سے کیا مراد ہے؟ لگتا ہے کہ بائبل کا خدا انا راستی پر رضا مندی کا اظہار کر رہا ہے؟

میرے نزدیک اس سوال کا جواب بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ اس آیت کے سیاق و سباق کو بھی دیکھا جائے ۔ اس تمثیل میں مالک اپنے مختار سے حساب مانگتا ہے۔ کیونکہ اس نے اپنے مختار کے بارے میں کوئی اچھی رپورٹ نہیں سُنی تھی۔ اَب جب مختار کو معلوم ہو جاتا ہے کہ مجھے فارغ کر دیا جائے گا تو وُہ قرضداروں کو بلا کر جتنا بھی واپس لے سکتا تھا لے لیتا ہے تا کہ کچھ تو ہاتھ آئے ۔ ہوشیار مختار کے اس عمل کے سبب سے مالک بھی خوش ہو گیا اور قرضدار بھی خوش ہو گئے۔

 

اَب مختار نے اس پیسے سے جو نہ تو پورا لیا گیا اور نہ پورا ادا کیا گیا دونوں پارٹیوں کو خوش کر دیا ۔ اصل میں اس سے مراد یہ ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے اور یہ صرف پیسہ ہی کی بات نہیں بلکہ مال کی بھی ہے اور یا د رکھیں کہ ہمارے پاس کوئی ایک بھی چیز ایسی نہیں جو ہماری اپنی ہو کیونکہ جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ سب خدا کا ہی دیا ہوا ہے۔ لہذا اسے خُداوند کے کاموں کیلئے ہی خرچ کیا جائے ۔ اس سے یہ  مرادہے کہ خداوند نے ہمیں خوشخبری سنانے کا حکم دیا ہے اور ہم تمام تر وسائل کو استعمال کریں تا کہ لوگ خدا کی بادشاہی میں شامل ہو سکیں اور یوں خدا بھی ہمیں کہے کہ اے اچھے اور وفا دار خادم، شاباش۔

مندرجہ بالا بیان سیاق و سباق کے اعتبار سے اس سوال کا جواب یہی  ہے۔ لیکن میں یہاں پر ایک اور بھی خیال پیش کرنا چاہتا ہوں اور امید ہے کہ ان دونوں خیالات کے سبب سے ہمیں اصل حقیقت سمجھنے میں آسانی ہوگی۔

کئی ایسے لوگ ہیں جن کا ماضی بہت داغدار ہوتا ہے۔ وہ ہر ایسا کام کرتے ہیں جس سے پیسہ کمایا جا سکے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ پیسہ سود کا ہو، ہو سکتا ہے وہ پیسہ شراب  بیچ کرحاصل کیا گیا ہو۔ ہو سکتا ہے کہ کسی بھی طریقے  یا کام یا جھوٹی گواہیاں دیتے ہوئے یہ پیسہ کمایا گیا ہو۔ لیکن ایک دن وُہ  شخص کسی انجیل کے گواہ کے سبب سے خوشخبری  سُنتا ہے اور کلام کا ہتھوڑا اُس  کے سخت دل پر ضرب کاری لگاتا ہے جیسا کہ پطرس کے وعظ کے وسیلہ سے پیشکست کو لوگوں کے دلوں پر چوٹ لگی اور یوں یہ  شخص  اپنا دل خد اوند کے سپر د کر دیتا ہے۔ وہ اپنا سب کچھ خداوند کے حضور پیش کر دیتا ہے۔ لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ فرض کریں اس کے پاس یا بینک میں کچھ پیسے ہیں جو تھوڑےبھی ہو سکتے اور زیادہ بھی ہو سکتے ہیں ۔ یہ پیسہ اس کے خون پسینے کی کمائی کا نہیں بلکہ نا جائز پیسہ ہے ۔ اَب وہ اس ناراستی کی دولت کا کیا کرے؟

میرا جواب یہ ہے کہ پیسہ اس شخص کا اپنا ہے اور اب وہ  شخص تبدیل ہو گیا ہے اور کیا اپنے اس نا جائز پیسہ کو آگ لگا دے؟ جی نہیں میں یہ مشورہ کبھی نہیں دُوں گا۔ بلکہ یہ کہوں گا کہ جیسے یہ شخص خود کسی کام کا نہیں تھا اور اب یسوع کے کام کا ہے اسی طرح یہ پیسہ بھی یسوع کے کام کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تا کہ کھوئے ہوئے یعنی غیر نجات یافتہ لوگ جنہوں نے خوشخبری نہیں سنی وہ سن سکیں ۔ اصل میں ناراستی کی دولت سے دوست پیدا کرنے سے یہی مراد ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہماری تبدیلی کے بعد جو کچھ ہمارا ہے خواہ  وُہ جیسے بھی حاصل کیا گیا اسے خدا کے جلال کیلئے استعمال کیا جائے ۔ میری دعا ہے کہ خدا اپنے پاک روح کے وسیلہ سے ان گہرے اور عمیق بھیدوں کے سمجھنے میں ہم سب کی رہنمائی فرمائے (آمین)۔

Back to Questions