Home
Questions And Answers

سوال: کیا مسیحی لوگ قربانی کا گوشت کھا سکتے ہیں؟

جواب:

کیا ہم  مسیحی حضرات عید اضحی کے موقع پر اپنے پڑوسیوں یا دوستوں کی طرف سے پیش کیا ہوا قربانی کی عید کا گوشت کھا سکتے ہیں؟ کیونکہ  کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کھا سکتے ہیں جبکہ کچھ متفق نہیں۔

ارے بھائی ایسے سوال پوچھ کر کیوں مجھے مسیحیوں سے سنگسار کروانے پر تلے ہوئے ہو ؟ ۔ میں مذاق کر رہا ہوں۔ اُمید ہے کہ اِتنے سارے جملے میں جواب دے دیا گیا ہے۔ کیا خیال ہے؟ یہ بہت ہی اہم سوال ہے اور اس کے جواب میں علما متفق نہیں اور نہ ہی وہ میرے جواب  سےمتفق ہوں گے۔ کلیسیا میں کئی ایسے موضوعات ہوتے ہیں جن پر موسم کے اعتبار سے بات ہوتی ہے اور باقی سارا سال ان پر شاید ہی بات ہوتی ہو ۔ ایسے مضامین میں ’’مسیحی روزے ‘‘ اور ’’قربانی کا گوشت‘‘ اکثر زیر بحث ہوتے ہیں۔ تاہم میں جانتا ہوں کہ اس سوال کا جواب دینے کے بعد بھی لوگ مجھ سے متفق نہیں ہوں گے اور یہ اُن کا حق ہے۔ میری صحت پر اِس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

ایسے قارئین جو میرے جواب سے متفق نہیں خُداوند ان کو بھی اور جو متفق ہیں ان کو بھی برکت بخشے ۔ میرا مقصد علم جھاڑنا نہیں بلکہ مناسب جواب دینا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں علمی باتیں سیکھنے کے ابتدائی مراحل میں ہوں۔ اگر آپ متفق نہیں تو کئی لوگ آپ کی باتوں سے بھی متفق نہیں ہیں۔ لہذا ہمارے متفق ہونے یا نہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا ۔ بہتر ہوگا کہ یہ دیکھا جائے کہ خدا کا کلام کس بات سے متفق ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ  مسیحی جو اس گوشت کا کھانا گناہ سمجھتے ہیں وُہ ایک آیت پیش کرتے ہیں جو یہاں پیش کئے دیتا ہوں ۔ ’’جو جسم کے اعتبار سے اسرائیلی ہیں ان پر نظر کرو۔ کیا قربانی کا گوشت کھانے والے قربان گاہ کے شریک نہیں ؟ ۔ پس میں کیا کہتا ہوں کیا  بُتوں  کی قربانی کوئی چیز ہے ؟ یا بُت  کچھ چیز ہیں ؟ نہیں بلکہ یہ کہتا ہوں کہ جو قربانی غیر قو میں کرتی ہیں شیاطین کیلئے قربانی کرتی ہیں نہ کہ خدا کیلئے اور میں نہیں چاہتا کہ تم شیاطین کے شریک ہو‘‘ (۱کرنتھیوں ۱۸:۱۰۔۲۰)۔

مندرجہ بالا آیات کو بنیاد بناتے ہوئے وہ یہ کہتے ہیں کہ بائبل میں لکھا ہے کہ جو قربانی غیرقو میں کرتی ہیں وہ شیطان کیلئے کرتی ہیں اور ہمیں اس قربانی کا گوشت کھا کر ان کی قربانی میں شریک نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ مسیح نے ہمارے گناہوں کا کفارہ صلیب پر قربان ہونے کے ذریعہ  سے ادا کر دیا ہے۔

عزیز قاری ! بلا شک اس واضح سچائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ واقعی یسوع مسیح ہی وہ واحد وسیلہ ہیں جن کے وسیلہ سے گناہوں کی معافی حاصل ہوتی ہے ۔ آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر کوئی دوسرا نام ہی نہیں بخشا گیا جس کے وسیلہ سے ہم نجات پاسکیں ۔ لہذا اس بحث میں پڑھنا تو مناسب نہیں اور نہ ہی یہ ہمارا موضوع ہے ۔ گنہگار انسان کی نجات صرف اور صرف یسوع مسیح کے بہائے ہوئے خون پر مبنی ہے اور خدا باپ تک رسائی کرنے کا واحد وسیلہ اور واحد انتظام بھی وہی ہے ( یوحنا ۱۴: ۶،  اور اعمال ۴: ۱۲)۔

دوسری بات یہ ہے کہ جب پولس رسول نے یہ خط کر نتھس کی کلیسیا کے نام لکھا تو اس وقت مسلمانوں کا نام و نشان تک نہ تھا۔ اسلام تو قریباً چھ صدیاں بعد آیا ۔ تو صاف ظاہر ہے کہ وہاں پر پولس رسول مسلمانوں کی قربانی کی بات ہی نہیں کر رہے ہیں۔

تیسری بات یہ ہے کہ کسی بھی سوال کا جواب جاننے یا تفسیر کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اگر کوئی حوالہ پیش کیا جا رہا ہو تو اس کا سیاق و سباق دیکھا جائے ۔ اس باب کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ پولس رسول وہاں پر ان قربانیوں کے بابت بات نہیں کر رہے تھے جو مسلمان کرتے ہیں بلکہ ان قربانیوں کی بابت جوبُت پرست لوگ کیا کرتے تھے۔ لہذاوہ ان قربانیوں کے گوشت کے کھانے سے منع کر رہا ہے جو بُتوں کیلئے کی جاتی تھیں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا مسلمان بُتوں کیلئے قربانی کرتے ہیں؟ کیا آپ میں ہمت ہے کہ جب وہ قربانی کر رہے ہوں اور آپ جا کر کہیں کہ یہ  بُتوں کے آگے قربانی کی جارہی ہے؟ ۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ وہ جانور کو چھوڑ دیں گے اور آپ کی قربانی کر دیں گے ۔ اگر آپ ایسا کر سکتے ہیں تو آپ نے خود کشی کرنے کا بہترین طریقہ ڈھونڈھ نکالا ہے۔ بہتر ہے کہ ایسا کرنے کیلئے پہلے اپنی انشورنس کروائیں تاکہ بچے آپ کے بعد

 بھو کے نہ مریں۔ اور اس طریقہ واردات کو اَپنے آپ پر نہ آزمائیں اور نہ ہی  کسی دوسرے کو مشورہ نہ دیں ۔

چوتھی بات یہ کہ مسلمان حضرت ابراہیم کے بیٹے کی قربانی کی یاد میں یہ قربانی کرتے ہیں ۔ آنحضرت صلعم نے بھی قربانی کی۔ اس سبب سے مسلمان اسے سُنت سمجھ کر بھی کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ جو قربانی میری طرف سے ہو رہی ہے تو جب میں جانور پر اپنے ہاتھ رکھتا ہوں تو جتنے بال میرے ہاتھ کے نیچے آتے ہیں اللہ تعالیٰ اتنے ہی میرے گناہ معاف کر ڈالے گا ۔ کچھ کا یہ خیال ہے کہ سات قربانیاں کرنے کے بعد میرے لئے ایک بّراق تیار ہوتا ہے جو پل صراط سے مجھے پار لے جائے گا۔ لہذا اس قربانی کے پیچھے کوئی ایک تصو ّر نہیں ہے اور میں نے پہلے بھی بیان کیا ہے کہ ہمارا قطعی ایسا تصوّر نہیں ہے۔

میں حیران ہوں کہ کئی مسیحیوں کا ایمان اتنا کمزور کچے دھاگے کی مانندہے کہ اللہ تعالی کیلئے مسلمانوں کی طرف سے کی جانے والی قربانی کا گوشت کھانے سے اُن کا ایمان خراب ہو جاتا ہے ۔ کیا ہمارے ایمان کا دارومدار اس پر مبنی ہے کہ یہ نہ کھائیں یا وُہ  نہ پیئیں  ؟ ۔ اس وقت ہماری غیرت ایمان کہاں ہوتی ہے کہ جب کئی مسیحی جمعرات کو جلیبیاں بانٹتے ہیں تو مزے لے لے کر کھاتے ہیں؟ اس وقت ہم کہاں ہوتے ہیں کہ جب  مسیحی  ہماری ہی گلیوں میں صدقے، نیاز اور خیرات کرتے ہیں اور ہم انتظار میں ہوتے ہیں اور ان کی دیگ پر دعا بھی کرتے بلکہ دعائے ربانی  تک پڑھتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ غلط ذرائع سے حاصل کئے گئے پیسہ سے نوٹ لے کر جیب گرم کرنے سے ہمیں موت نہیں پڑتی جھوٹے نکاح ، بد گوئیاں اور افواہیں چھوڑنے سے ہمارے ایمان پر کوئی اثر نہیں پڑتا لیکن قربانی کے گوشت کے کھانے سے فرق پڑ جاتا ہے ۔ کیا اس سب کچھ کی بائبل مقدّس اجازت دیتی ہے؟ ۔

اگر کوئی مسلمان ہمارے دروازے پر بڑی محبت سے گوشت لے کر آتا ہے تو اس کو کیا کہیں گے جس سے اس کا دل نہ ٹوٹے ؟ یا درکھیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جن میں آپ نے خوشخبری سنانا ہے ۔ میں بڑے وثوق

کیسا تھ کہہ سکتا ہوں کہ قربانی کے گوشت کا مسئلہ عام طور پر ایسے ہی  مسیحی اٹھاتے ہیں جو ان میں گواہی نہیں دیتے ۔ اندھا بار بار ریوڑیاں بانٹتا ہے مگر اپنوں میں ہی۔ کیا بائبل مقدّس یہ نہیں کہتی کہ اگر کوئی کسی کو ٹھو کر کھلائے تو چکی کا پاٹ اس کے گلے میں باندھ کر سمندر کی تہہ میں ڈال دیا جائے ؟۔ لگتا ہے کہ ہم ان فریسیوں اور فقیہوں  سے کم نہیں جو چھوٹی چھوٹی چیزوں پر تو دَہ یکی دیتے تھے مگر بڑی بڑی کو نگل جاتے تھے ؟۔

 حرف آخر کے طور پر میں یہ کہوں گا کہ بائبل اس گوشت کے بارے میں کچھ نہیں کہتی ۔ جی کرتا ہے تو کھا ئیں اور نہیں کرتا تو نہ کھائیں۔ اگر کھانے کے سبب سے کسی کیلئے ٹھوکر کا سبب بنتے ہیں تو نہ کھا ئیں ۔ ویسے بھی اگر نہ کھائیں تو یہ گوشت آکسیجن نہیں ہے کہ اس کے بغیر ہم مر جائینگے ۔ لیکن کسی کو ٹھو کر کھلا کر بھیجنا مسیحی کو زیبا نہیں دیتا۔

میرے لئے اس قربانی کا گوشت کھانا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس سے میرے ایمان پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میرا ایمان اتنا کمزور نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ شاید جگہ جگہ گندگی اور خون دیکھنے کے سبب سے اور گوشت صاف نہ ہونے کے سبب سے میر اول نہیں کرتا ۔ ہم گوشت لے لیتے لیتےہیں اور یوم ولادت المسیح پر  ہم بھی تحائف اور کتب تقسیم کرتے ہیں۔ جناب تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ لہذا میں یہ نہیں کہتا کہ ضرور کھائیں یا نہ کھائیں۔ میں نے بائبل مقدّس کو بنیاد بناتے ہوئے جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا ہے۔

 آخر پر میں چند آیات آپ کی نظر کرتا چلوں کھانے کی خاطر خدا کے کام کو نہ بگاڑ ۔ ہر چیز پاک تو ہے مگر اس آدمی کیلئے بری ہے جس کو اس کے کھانے سے ٹھو کر لگتی ہے ۔ یہی اچھا ہے کہ تو نہ گوشت کھائے ، نہ مے پیئے اور نہ اور کچھ ایسا کرے جس کے سبب سے تیر ابھائی ٹھو کر کھائے ۔ جو تیرا اِعتقاد ہے وُہ خد ا کی نظر میں تیرے ہی دل میں رہے ۔ مبارک ہے وہ آدمی جو اس چیز کے سبب سے جسے وہ جائز رکھتا ہے اپنے آپ کو ملزم نہیں ٹھہراتا۔ مگر جو کوئی کسی چیز سے شبہ  رکھتا ہے اگر اس کو کھائے تو مجرم ٹھہرتا ہے۔ اس واسطے کہ وُہ اعتقاد سے نہیں کھاتا اور جو کچھ اعتقاد سے نہیں وُہ گناہ ہے (رومیوں  ۱۴: ۲۰۔ ۲۲)

 کھانا ہمیں خدا سے نہیں ملائے گا اگر نہ کھا ئیں تو ہمارا کچھ نقصان نہیں اور اگر کھا ئیں تو کچھ نفع نہیں لیکن ہوشیار رہو ایسا نہ ہو کہ تمہاری یہ آزادی کمزوروں کیلئے ٹھوکر کا باعث ہو جائے (۱ کرنتھیوں ۹: ۸ ۔ ۹ )۔

اس سبب سے اگر کھانا میرے بھائی کو ٹھوکر کھلائے تو میں ہرگز گوشت نہ کھاؤں گا تاکہ اپنے بھائی کیلئے ٹھوکر کا باعث نہ بنوں (۱ کرنتھیوں ۸: ۱۳)۔

 ذیل میں پیش کیئے گئے فارمولے کا استعمال کریں تو آپ کو جواب مل جائے گا۔

۱۔ اس گوشت کے کھانے سے میرا کیا فائدہ ہوگا؟

۲۔اس گوشت کے کھانے سے میرا روحانی طور پر کیا فائدہ ہوگا؟

۳۔ کیا جسمانی طور پر کوئی فائدہ ہے جو صرف یہ گوشت ہی دے سکتا ہے؟

۴۔کیا اس گوشت کے کھانے سے کسی دوسرے کا فائدہ ہے ؟

۵۔کیا اس گوشت کے کھانے سے خدا کا جلال ظاہر ہوتا ہے ؟

۶۔کیا اس گوشت کے کھانے کی کلام اجازت دیتا ہے؟

۷۔کیا اس  سےمعاشرے میں میری عزت ہوگی؟

۸۔ میرا ایسا کونسا کام ہو سکتا ہے جو خدا نہیں کر سکتا ؟ مراد یہ کہ خدا تو سب کچھ کر سکتا ہے ہاں۔

۹۔اگر میں یہ گوشت نہ کھاؤں تو کیا میں مر جاؤں گا ؟

۱۰۔اگر میں مر رہا ہوں تو کیا اس گوشت کے کھانے سے بچ جاؤں گا؟

 مندرجہ بالا کلیہ ایسا ہے جو ہمارے لئے بہت کارآمد ہے ۔ اچھا ہوگا کہ اس  کلئے کو اچھی طرح جان لیں کیونکہ آئندہ جب بھی آپ کچھ کرنے لگیں اور اس کشمکش میں ہوں کہ کروں یا نہ کروں تو اس  کُلیے  کا استعمال کریں۔ جب قربانی کے گوشت کے کھانے یا شراب نوشی کی بات آئے تو جواب خود ہی مل جائے گا۔ مناسب ہو گا کہ ان نکات کی ایک الگ سے کاپی تیار کر لیں ۔ اور جب آپ تجزیہ کریں تو آگے ہاں یا نہ لکھتے چلے جائیں۔ تا کہ بہتر نتیجہ تیار کر سکیں ۔ میرا ایمان ہے کہ خداوند نے اس جواب کے وسیلہ سے آپ کو خوب برکت بخشی ہوگی ۔ آمین۔ 

Back to Questions