Home
Questions And Answers

سوال: کیا خدا مردہ جانوروں کے کھانے کا حکم دیتا ہے؟

جواب:

 استثنا ۱۴: ۲۹ ، میں خدا اسرائیل کو مردہ جانور کھانے سے منع فرماتا ہے لیکن کہتا ہے کہ مرے ہوئے جانور کو غیر قوموں کو دے دو یابیچ دو۔ اس سے کیا مراد ہے؟

 قبل اس کے کہ آپ اس حوالے کے بارے میں جانیں پہلے اس کو ایک بار ا چھی طرح تلاوت کر لیں ۔ آپ کو یہ تو معلوم ہی ہے کہ خدا قوم بنی اسرائیل کے حق میں یہ چاہتا تھا کہ وہ باقی قوموں میں نرالی قوم ٹھہرے کیونکہ خدا کی چنیدہ قوم یہی تھی اور خدا اس قوم کے وسیلہ سے سارے جہان کیلئے برکت کا انتظام کر رہا تھا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ خدا اس قوم میں سے منجی عالمین کو بھیجنے والا تھا ۔ خدا نے اس قوم کیلئے حدیں مقرر کی ہوئی تھیں یعنی شریعت موسوی کہ اس حد سے باہر نہ جانا ۔ خدا نے انہیں آگاہ کیا ہوا تھا کہ کس طرح کے جانوروں کا گوشت آپ کھا سکتے ہیں اور کسی طرح کے جانوروں کا نہیں کھا سکتے ۔ اس بات سے سختی سے منع کیا گیا کہ مرے ہوئے جانور کا گوشت نہیں کھانا ۔ یہاں تک کہ اُس کو چھونے کی بھی اجازت نہیں تھی ورنہ چھونے والا نا پاک ہو جاتا تھا۔ یہ تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ خدا نے انہیں مرے ہوئے جانور کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا۔

لیکن دوسری طرف خدا اجازت دے رہا ہے کہ آپ تو نہ کھائیں مگر اجنبیوں کو دے دیں یا بیچ دیں ۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ دراصل غیر قو میں  کسی  مردہ جانو روغیرہ  کوکھانا کوئی مضائقہ نہیں سمجھتی تھیں بلکہ وہ خوشی سے کھاتی تھیں اُنہوں نے حرام و حلال کو اپنے لیے جائز ہی سمجھا ہوا تھا۔ جس سبب سے خدا کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ جو کھاتے ہیں اُنہیں دے دو کیونکہ انہیں کوئی پرواہ نہیں لیکن چونکہ تم  برگزیدہ لوگ ہو جس سبب سے میں نہیں چاہتا کہ تم اس طرح کی نا پاک حرکت کرو ۔مختصر یہ کہ خدا اپنی  قوم اسرائیل کو مکمل طور پر پاک دیکھنا چاہتا تھا۔ دوسرے لوگ خدا کی شریعت کو نہیں مانتے تھے اس لیئے وہ کہہ رہا ہے کہ نا فرمان تو پہلے ہی ہیں لہذا انہیں جو کرتے ہیں کرنے دویا جو کھاتے ہیں کھانے دو مگر تم اپنے آپ کو پاک رکھو ۔ اُمید ہے کہ اس سوال کا جواب آپ کو مل گیا ہوگا۔ خُداوند آپ کو برکت بخشے ( آمین ) 

Back to Questions