Home
Questions And Answers

سوال: خداوند یسوع مسیح کے کفارہ ہو جانے کے بعد بھی زمین کیوں لعنتی ہے؟

جواب:

سوال کی نوعیت جاننے اور تو رات شریف کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم کے زوال پذیر ہونے سے قبل یہ زمین لعنتی نہیں تھی کیونکہ خدا نے جو کچھ بھی پیدا کیاوُہ اچھا پیدا کیا تھا لیکن گناہ کے سبب سے یہ زمین لعنتی ہوئی یعنی اُونٹ کٹارے اُگانے لگی جو پہلے نہیں ا ُگاتی تھی۔ ذرا اَپنی دھرتی پر نگاہ دوڑائیں۔ اگر یہ زمین آج تک اُونٹ کٹارے اُگاتی اور اپنا حاصل نہیں دیتی تو پھر صاف ظاہر ہے کہ یہ ابھی تک لعنتی ہی ہے۔ اس دھرتی پر آج بھی کشت و خون اور ہر قسم کا گناہ ہوتا ہے ۔ ہماری دھرتی گویا خون کی چادر میں لپٹی ہوئی ہے ۔ عہد حاضر میں زمین جو اپنا حاصل ( فصل ) دیتی ہے وہ ڈنڈے کے زور سے دیتی ہے اور یہ ڈنڈا کھاد کا ہے۔ اگر کسان اس ڈنڈے کا استعمال نہ کرے تو پھر جو فصل آج ہمیں حاصل ہوتی ہے وہ بھی نہ ہو۔

حضرت آدم و حوا کو خدا نے جو سزا دی تھی وہ آج تک قائم ہے اور زمین کا لعنتی ہونا بھی بالکل اسی طرح ہی ہے۔ یہ دونوں حقائق ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہم کہاں سے گرے اور خدا نے کونسی سزائیں ہمارے لئے مقرر کی تھیں۔ اگر یہ سزائیں آج اسی طرح نہ ہوتیں تو ہمیں یہ تجربہ کبھی بھی نہ ہوتا کہ بچے کی پیدائش کے وقت جو درد ہوتی ہے وہ کیا بلا ہوتی ہے اور خون پسینے کی کمائی کیا ہوتی ہے اور اونٹ کٹارے کس مرض کا نام ہے اور سانپ بھی پیٹ کے بل چلتا ہوا نظر نہ آتا اور یوں ہم کتاب مقدّس کو باطل ٹھہراتے۔

لہذا آپ کے سوال کے جواب میں مختصرا یہی کہوں گا کہ زمین ابھی تک لعنتی ہی ہے۔ انتظار کریں کہ جب خدا اس زمین و آسمان کو نیا بنا ڈالے گا۔ ان نئے ارض و سما میں راستبازی بسی ہوئی ہوگی جہاں کسی بھی طرح کی ناپاکی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔ یادر ہے کہ گناہ زمین نے نہیں بلکہ انسان نے کیا اور انسان ہی کے گناہ کے سبب سے زمین لعنتی ہوئی ( پیدائش ،تکوین  ۳: ۱۴ ۔ ۱۹ کا مطالعہ فرمائیں )۔ مسیحا نے جو گناہوں کا کفارہ دیا وُہ زمین کے گناہوں کا نہیں بلکہ اہل زمین (انسانوں) کے گناہوں کا دیا ۔ اگر انسان آج بھی انسان بن  جائے اور اپنی روشوں کو درُست کرے اور اپنے گناہوں کا خداوند کے حضور اقرار کرے تو وہ ہمیں معاف کرنے اور ہماری سرزمین کو بحال کرنے کیلئے تیار ہے کیونکہ یہ اس کا وعدہ  ہے (دیکھئے ۲ تواریخ  ۷: ۱۴ اور ۱ یوحنا ۹:۱  ) اُمیدِ واثق ہے کہ کہ  یہ جواب آپ کیلئے کافی ہو گا۔ خداوند آپ کو برکت بخشے ( آمین )

Back to Questions