Home
Questions And Answers

سوال: حیادار لباس سے کیا مراد ہے؟

جواب:

کتاب مقدّس کی تعلیم جو بائبل کے زمانے کیلئے تھی وُہ آج کیلئے بھی ویسی ہی حیثیت رکھتی ہے ۔ عہد حاضر کے ماڈرن ازم میں اس سوال کے جواب کی وضاحت بہت ضروری ہے۔

حیا دار لباس سے مراد ایسا لباس ہے جو صاف ستھرا ہوا اور معاشرے میں قابلِ قبول ہو ۔ ایسا لباس جس میں آپ دُوسروں کیلئے مرکز نگاہ نہ بنیں یعنی آپ کے جسمانی اعضا کی نمائش نہ ہو رہی ہو۔ آپ لباس پہنے ہوئے بھی ننگے نظر آ ئیں تو یہ کوئی حیا دار لباس نہیں ہے۔ عہد حاضر کے ملبوسات اکثر ایسے ہیں جن میں شرم و حیا با لکل بھی نظر نہیں آتی۔ ہم یا تو مغرب کی طرح ہوتے چلے جا رہے ہیں یا قریبی ملک کی فلمیں دیکھ کر ویسے ہی بننا چاہتے ہیں ۔ جبکہ ہمیں اپنے معاشرے کی اقدار کو کبھی بھی نہیں بھولنا چاہیئے ۔ جدید فیشن کی دُنیا نے دَرزیوں کو بھی پاگل کر دیا۔ لہذا ایسالباس جس میں آپ کسی کیلئے آزمائش کا سبب نہ ہوں پہنا جائے تو اَچھا ہے ۔ خواتین کیلئے سر پر دوپٹہ اور مرد حضرات اَپنے سر کے بال مناسب اور لباس ایسا پہنیں جس سے لوگ ٹھو کر نہ کھائیں بلکہ خدا کے نام کو جلال ملے ۔ پولس رسول کر نتھس کی کلیسیا کے نام خط لکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ " پس تم کھاؤ یا پیو جو کچھ کرتے ہو سب خدا کے جلال کیلئے کرو (۱ کرنتھیوں ۱۰: ۳۱) ۔ مزید تفصیل کیلئے مناسب ہو گا کہ مصنف کی ایک کتاب کا جس کا نام ”دُور کی نظر‘‘ ہے اور دُختر ان کلیسیا کے نام ہے مطالعہ کیا جائے۔ خُداوند آپ کو برکت بخشے (آمین)۔

Back to Questions