Home
Questions And Answers

سوال: کیا یسوع نے اپنی ماں کو عورت کہہ کر توہین کی؟

جواب:

(یوحنا ۱۹: ۲۶ ۔ ۲۷ اور یوحنا ۲: ۴)۔ اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ اپنی والدہ سے ماں کہہ کر مخاطب نہیں ہوئے؟

عہدِ جدید یونانی زبان میں لکھا گیا اور یونانی زبان میں ”اے عورت‘‘ کیلئے جو الفاظ مستعمل ہیں اُن کے معنی ”اے معزز خاتون‘‘ کے ہوئے ہیں۔ اس کے اور زیادہ واضح معنی شادی شدہ عورت ہیں اور یہ ایسے الفاظ تھے جو اس معاشرے میں اور اس زمانے میں قابل قبول تھے۔ کلام مقدّس کی تفسیر کیلئے ضروری ہے کہ جو بات جس زمانے میں لکھی گئی ہوا اُس وَقت کے حالات اور معاشرے کا بھی مطالعہ کیا جائے ۔ ایسا کرنے سے ہم بہت سی اغلاط کے خطرے سے بچ جائینگے ۔ آپ جس ترجمہ کو پڑھ کر بات کر رہے ہیں یہ اُردو ترجمہ ہے اور اِس معاشرے کیلئے ہے۔

سوال کا دُوسرا حصہ بہت اَہم ہے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ یسوع مسیح نے فرمایا تھا کہ میری ماں اور بہن بھائی وُہ ہیں جو میرے باپ کی مرضی پر چلتے ہیں۔ پھر ایک اور مقام پر فرمایا کہ جو میری خاطر اَپنا سب کچھ ترک نہ کر دے وُہ میرے لائق نہیں (لوقا ۱۴ باب ) ۔ یسوع نے اَپنی زندگی سے اپنے بھیجنے والی کی مرضی پوری کی۔ لڑکپن میں ہی مریم صدیقہ اور مقدّس یوسف سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ مجھے اَپنے باپ کے کام میں لگے رَہنا ضرور ہے ؟ یہ اِس وقت کی بات ہے کہ جب آپ بارہ سال کی عمر عزیز میں اَپنے والدین کے ساتھ پر و شلیم عید منانے گئے تھے اور مذہبی علماء کیساتھ بحث کرنے لگ پڑے تھے اور اِسی سبب سے پیچھے رَہ گئے تھے۔

میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے اِس لئے بھی’’ ماں‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا کیونکہ آپ جسمانی رشتے قائم کرنے کیلئے نہیں آئے تھے بلکہ باپ کی مرضی پوری کرنے آئے تھے۔ مسیحا مردوزن کے ملاپ سے ولادت نہیں پائے تھے ۔ آپ اِس لیئے بھی ماں کہہ کر مخاطب نہیں ہوئے کیونکہ اگر آپ ایسا کہتے تو ماں کی ممتا جاگ اٹھتی اور مسیحا کا صلیب پر قربان ہونا اور زیادہ کرب انگیز ہو جا تا ۔ خُداوند ہم سب کو عقل سلیم عنایت فرما مائے تا کہ ہم کتاب مقدّس کی اہم اور خوبصورت ترین باتوں کو احسن طریقہ سے سمجھ سکیں ( آمین )۔

Back to Questions