Home
Questions And Answers

سوال: ملکِ صدق، سالم کا بادشاہ کون تھا؟

جواب:

ملک ِ صدق کے تعلق سے کلیسیاء میں گاہے بگاہے سوالات اُٹھتے رَہتے ہیں کہ وُہ کون ہے اور اِن سوالات کے مختلف جوابات بھی دیئے جاتے ہیں۔میں کافی عرصہ سے اِس موضوع پر سوچ رہا تھاکہ اگر میں تھوڑا سا اَپنا حق ادا کروں تو شاید میرے قارئین اِس موضوع کو اور زیادہ بہتر طور پر سمجھ پائیں گے۔جب ہم خود کسی بھی مضمون کو بہتر طور پر سمجھتے ہوں گے تو کسی دُوسرے کی بھی بہتر رَہنمائی کر پائیں گے۔میں نے اِس موضوع پر سٹیڈی کی اور اُس کے بعد مختلف بائبل سٹیڈی گروپوں میں سٹیڈی بھی دی اور اِس سٹیڈی کے سراہے جانے کے بعد میں نے چاہا کہ اِس پر قلم اُٹھایا جائے۔ میں کوشش کروں گا کہ ایک وِڈیو پیغام بھی رِیکارڈ ہو پائے جو اُن لوگوں کیلئے ہو گاجو پڑھے لکھے نہیں ہیں۔

بائبل مُقدّس میں ملکِ صدق سالم کے بادشاہ کے تعلق سے تین اَہم حوالے مِلتے ہیں۔یہ تین حوالہ جات پیدائش14:18-20؛ زبور110:7؛ اور عبرانیوں7 باب ہیں۔میں بڑے وثوق سے یہ دعویٰ کر سکتا ہو ں کہ اگر آپ اِن تین حوالہ جات کی تلاوت کر لیں یعنی پیدائش 14، زبور 110، اور عبرانیوں 7 باب تو پھر شاید آپ کو اِس سوال کے یہاں پر جواب پڑھنے کی بھی ضرورت محسوس نہ ہو۔تاہم پھر بھی مجھے اَپنا قرض چُکانا لازم ہے۔

 مذکورہ بالا حوالہ جات کے مطابق پیدائش کی کتاب میں ملکِ صدق کے تعلق سے سب سے پہلا ذِکر مِلتاہے۔زبور کی کتاب میں ملکِ صدق سے متعلق ذِکر ہے کہ وُہ اَبدی کاہن ہے اور اُس کی مُدّت کبھی ختم نہ ہو گی اورپھر عبرانیوں کے خط میں ہمیں باقی دُونوں حوالہ جا ت کی تفسیر مِلتی ہے۔اِس لیئے میں یہ مشورہ دیتاہوں کہ اگر پہلے دو حوالے پڑھنے کے بعد اگر عبرانیوں کا حوالہ سمجھ کر پڑھ لیا جائے تو جواب خود بخود مِل جاتا ہے کہ ملکِ صدق کون ہو سکتا ہے۔تاہم ذیل میں جیسا کہ میں سمجھتا ہوں اِس سوال کا جواب تحریر کرتا ہے۔

 بزرگ ابرہامؔ اور بزرگ لوط ؔجب سدومؔ کے علاقے میں آئے تو دُونوں کو خُدا نے کافی برکت دی جس سبب سے دُونوں کے چرواہوں میں جھگڑا ہونے لگا۔بزرگ ابرہامؔ نے لوط ؔ سے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ اِس طرح جھگڑا ہوتا رہے لہٰذا میرا مشورہ یہ ہے کہ یہاں سامنے یا دائیں بائیں جہاں تیرا جی کرے تُم اَپنے لیئے جگہ اِنتخاب کر لے میری فکر نہیں کرنا اور بہتر ہو گا کہ تُو تیرے چرواہے اور مال مویشی وہاں جا کر آباد ہوں۔بزرگ لوط ؔنے مشورہ قبول کرتے ہوئے سدوم ؔکے علاقے کا اِنتخاب کیا کیونکہ وہاں بہت ہی سر سبز وادیاں تھیں اور وہاں جا کر آباد ہو گیا۔کبھی کبھی ہم بھی چمکتی ہوئی چیز کو سونا سمجھ لیتے ہیں اور پھر اُس پہ ہر قسم کا سودا کرنے غرضیکہ مر مِٹنے کیلئے بھی تیار ہو جاتے ہیں۔

خُدا نے لوطؔ کو بھی کافی برکت دے رَکھی تھی ، کافی مال مویشی تھے اور قریب پائے جانے والے بادشاہ حسد کرنے لگے اوراُنہوں نے اِتحادی بن کر لوط ؔ پر چڑھائی کی اور سب کُچھ لے گئے اور لوط ؔکو بھی اَپنے ساتھ اسیر کر کے لے ۔

جب بزرگ ابرہامؔ کو یہ ماجرامعلوم ہوا تو اَپنے ساتھ تین سو اٹھارہ نوجوان لیئے جو شاید اُس نے کسی بھی ایمرجنسی کیلئے تیار کئے ہوئے تھے اور اُن بادشاہوں کو آلیا اور اُن کو شکست خوردہ کر کے سب کو واپس چھڑ الایا۔پیدائش کی کتاب والے حوالے میں پائے جانے والے پسِ منظر سے یہی معلوم ہوتاہے۔جب واپس آ رہے تھے تو مذکورہ آیات میں لکھا ہے کہ راستے میں اَبرہامؔ کا استقبال کرنے کیلئے ملکِ صدق سالم کا بادشاہ اُس کیلئے روٹی اور مے لے کر آیا اور اَبرہام ؔنے اِس مال میں سے جو وُہ چھڑا لایا تھا عمدہ سے عمدہ مال کی ملکِ صدق کو دَہ یکی دی۔یہ بات ہم آگے جا کر سمجھیں گے کہ دَہ یکی کس کو دی جاتی ہے اور اَبرہامؔ نے ملکِ صدق کو کیوں دَہ یکی دی۔

اَب زبور کی کتاب میں جیساکہ آپ نے پڑھا ہو گا وہاں پر نبوّتی رُوح میں یہ نہیں کہا گیا کہ ملکِ صدق اَبدتک کاہن ہو گا بلکہ یہ کہ وُہ ہے۔یہ بات نبوّتی رُوح میں خُداوند یسوع مسیح سے متعلق کہی گئی ہے۔اَب ہم عبرانیوں کے نام خط کے ساتویں باب میں آتے ہیں۔

 یاد رَکھئے‘‘ملک’’کے معنی‘‘بادشاہ’’ کے ہوتے ہیں اور ‘‘صدق ’’ کے معنی ‘‘سچا’’یا‘‘راستباز’’ کے ہیں۔گویا ‘‘ملکِ صدق ’’کے معنیٰ ‘‘راستبازی کا بادشاہ’’ ہیں اورلفظ ‘‘سالم ’’ شالوم’’ سے نکلا ہے جس کے معنیٰ ‘‘سلامتی ’’کے ہیں۔ ‘‘سالم’’کیلئے کئی علماء یہ بھی خیال کرتے ہیں کہ یہ ‘‘شہرِ یروشلیم’’ کی طرف اِشارہ ہے کیونکہ وُہ سلامتی کا شہر ہے۔لہٰذا ‘‘سالم کا بادشاہ ’’سے مراد ‘‘یروشلیم کا بادشاہ’’ ہے۔ وُہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اصل میں یہ کوئی واقعی بادشاہ تھا جویروشلیم ؔکا تھا۔ہم اِس پر غور کریں گے کہ یہ بات کہاں تک درُست ہے۔

 ملکِ صدق کے تعلق سے یہاں چند ایسے اَہم ترین نکات ہیں جو اَولادِ آدم پر صادق نہیں آتے اور ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ وُہ کون ہے اور میں ایک ایک کر کے اِن پر روشنی ڈالوں گا تاکہ جواب واضح طور پر سامنے آ جائے۔

ملکِ صدق، راستبازی کا بادشاہ۔جہاں تک میرا مطالعہ ہے، ابھی تک مجھے کوئی ایسا بادشاہ نظر نہیں آیا اور نہ ہی تاریخ کے اوراق میں پڑھاکہ اولادِ آدمؔ ہو اور پھر اُس کے راج میں سراپا ‘‘راستبازی ، اَمن و سلامتی’’ کا دور دورہ ہو،کوئی جنگ نہ لڑی ہو اور کشت و خون نہ کیا ہو۔گناہ بھی نہ کیئے ہوں۔تارِیخ کے اوراق کسی ایسے بادشاہ کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے نظر نہیں آتے جس کاکبھی یروشلیمؔ پر راج ہو اہو اور کبھی گڑ بڑ نہ ہوئی ہو۔اِس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ملکِ صدق اولادِ آدم ؔمیں سے نہیں تھا اور نہ ہی کبھی یروشلیمؔ پر کسی ایسے بادشاہ نے بادشاہی کی ہے۔لہٰذا یہ خیال کہ ملکِ صدق ، واقعی کوئی بادشاہ تھا بالکل بے بنیاد ہے اور اِس سوا ل کے جواب کے سمجھنے میں یہ بہت ہی ضعیف سی دلیل ہے۔

 دُوسری بات یہ ہے کہ اِس ملکِ صدق سے متعلق یہ بھی آیا ہے کہ یہ نہ صرف‘‘ کاہن’’ بلکہ‘‘ اَبدی کاہن’’ ہے۔اَب پہلا کاہن ہارونؔ تھا اور اُس کے بعد لاویوں میں سے بے شمار کاہن رہے ۔اُن تمام کاہنوں کی موت واقع ہوئی اورمر ے ہی ہوئے ہیں۔اگر وُہ اَبدی کاہن ہوتے تو اُن کی کہانت ابھی بھی جاری ہوتی۔سب مر گئے اور اَپنی اَپنی کہانت بھی ساتھ لے گئے جس سبب سے میں دَعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ اَبدی کہانت لاویوں کے قبیلہ میں سے کسی کی نہیں تھی۔جب وُہ کاہن مرے تو اُن کی کہانت بھی جاتی رہی۔

تیسری بات یہ ہے کہ ہر کاہن اولادِ آدم ؔہونے کے ناطے سے ماں اور باپ سے پیدا ہوا۔ اُن کا کوئی سلسلہ نسب یا شجرۂ نسب تھا جو اِس بات کو ظاہر کرتا تھا کہ وُہ فلاں سے پیدا ہوئے۔ لیکن جس کاہن کا یہاں پر ذِکر ہے اُس کی اِبتدا ور اِنتہا کا کائی ذِکر نہیں۔اُس کا کوئی نسب نامہ نہیں، نہ باپ ہے نہ ماں، کہاں سے آیا کوئی پتہ نہیں ہے۔ اور آخری بات یہ کہ دَہ یکّی تو ہیکل میں (ذخیرہ خانہ )میں لائی جاتی تھی۔کسی بشر کو نہیں دی جاتی تھی۔ لیکن یہاں وُہ ہے جس کو دَہ یکی دی گئی اور اُس نے اُسے قبول بھی کر لیا۔

 اَب میں اِن چاروں نکات پر مختصراًبات کرتے ہوئے بات کا خلاصہ پیش کروں گا۔ایسا ملکِ صدق یعنی ایسا بادشاہ جس کے دور میں مکمل طور پر راستبازی، اَمن، چین، راحت، سکون اور اِطمینان پایا جائے وُہ خُداوند یسوع مسیح کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔وُہ نہ صرف بادشاہ ہے بلکہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔وُہ سلامتی کی بات کرنے والا ہی نہیں بلکہ سلامتی کا شہزادہ بھی ہے۔لہٰذا ملکِ صدق یسوع مسیح ہی ہے۔

کاہن قوم کی طرف سے خُدا کے حضور شفاعت کرتا تھا۔کاہن اِنسان اور خُدا کے بیچ میں دَرمیانی ہوتا تھا۔کاہن اِنسان اور خُدا کا میل کروانے والا ہوتا تھا اور پوری قوم کی طرف سے قربانیاں کیا کرتاتھا۔کاہن کی طرح کئی اور کاہن بھی ہوتے تھے بلکہ اُن سب کے اُوپر ایک سردار کاہن بھی ہوتا تھا۔لیکن جیسے پہلے کہا جا چُکا ہے اُن کا ایک خاص دور ہوتا تھا۔جس کاہن کا یہاں پر ذِکر ہے وُہ اَبدی کاہن ہے اور وُہ خُداوند یسوع مسیح کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔وُہی گنہگار اِنسان اور پاک خُدا کے بیچ میں دَرمیانی ٹھہرا۔اَبدی کہانت بھی یسوع کی ہی ہے کیونکہ وُہ زِندہ ہے اور ہمیشہ زِندہ رہے گا۔اُس نے اَپنی ہی جان کی قربانی کی اور آسمانوں سے گزر گیا اور ہماری شفاعت کیلئے زِندہ ہے اور زِندہ رہے گا۔

 ابرہام ؔنے ملکِ صدق کو دَہ یکّی دی۔ دَہ یکی صرف خُد اکو ہی دی جا سکتی تھی کسی کاہن کو نہیں۔ ملکِ صدق یسوع مسیح کی مشابہت تھا جس سبب سے اُس نے دَہ یکی قبول کی۔جب یہ لکھا ہے کہ وُہ خُدا کے بیٹے کے مشابہ ٹھہرا تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے عالم حضرات بتاتے بھی ہیں کہ یسوع مسیح مجسّم ہونے سے پیشتربعض مقامات پر جسم میں ظاہر ہوا اور وُہ یہوّاہ خُد اکے فرشتہ کے رُوپ میں ظاہر ہوتا رہا اور خاص کام کرنے کے بعد جس کیلئے وُہ آتاتھا پھر واپس چلا جاتا تھا۔ جیسے ابرہامؔپر، سارہ ؔپر، لوط ؔپر اور صحرائے شور میں ہاجرہ ؔپر ظاہر ہوا۔یہی تو سبب ہے کہ مجسّم ہونے سے پیشتر جب وُہ بطورِ کلمہ خُدا میں ازل سے موجود تھا تو بن ماں اور بن باپ کے تھا کیونکہ خُدا کا کوئی والدیا والدہ نہیں اور نہ ہی ہم یہ جانتے ہیں کہ خُدا کب سے ہے اور کب تک رہے گا۔لہٰذا جیسے یسوع مسیح خُدا کا بیٹا تھا اور اُس کے جیسے اوصاف تھے ، ملکِ صدق اُسی کی طرح لگتا تھا۔یہی سبب ہے کہ لکھا ہے کہ وُہ خُدا کے بیٹے کے مشابہ ٹھہرا۔

 لہٰذا میں خُداوَند کا خادِم اور اِنجیل کا گواہ اور کلامِ مُقدّس کا طالبِ علم ہوتے ہوئے کہوں گا کہ ملکِ صدق خُداوند یسوع مسیح کے علاوہ اور کوئی نہیں۔میں کوشش کرتا ہوں کہ جو بھید مجھ پر کُھلے اُس کی بابت دُوسروں کو بھی بتاؤں۔اُمیدِ واثق ہے کہ آپ نے اِس جواب کے وسیلہ سے برکت پائی ہو گی اور قلبی تسلّی اور اِطمینان بھی مِلا ہو گا۔خُداوند آپ کو برکت بخشے(آمین)۔

Back to Questions