Home
Questions And Answers

سوال: یسوع پر لعن طعن ایک ڈاکو نے کی یا دونوں نے؟

جواب:

عزیز قاری ! لعن طعن تو دُونوں نے ہی کی تھی مگر جب مسیحا نے صلیب پر یہ کلمات ادا کیئے کہ اَے باپ انہیں معاف کر کیونکہ یہ نہیں جانتے کہ کیا کرتے ہیں تو ایک کی زندگی میں پاک رُوح نے کام کیا اور وُہ تبدیل ہو گیا اور یسوع پر ایمان لایا کہ۔۔۔

۱۔ خداوند ہے

۲۔ بے گناہ ہے

۳۔ وُہ بادشاہ ہے

۴۔ وُہ پھر آئے گا

۵۔ وُہ منصف ہوگا

اس کے بعد اس نے یسوع پر لعن طعن نہیں کی بلکہ ایمان لے آیا ۔ یہی تو سبب ہے کہ دوسری جگہ لکھا ہے کہ ان میں سے ایک نے لعن طعن کی ہے اور یہ بعد میں بھی لعن طعن کرتا رہا جب تک کہ اس کے حواس باختہ نہ ہو گئے ۔ ہمارے لیئے ان دونوں بیانات کو سچا ماننا ضروری ہے کیونکہ یہ کسی اخبار کی نہیں بلکہ خدا کے کلام کی باتیں ہیں۔

کلام مقدّس کے کسی بھی حصے کی تفسیر کیلئے ایک اَہم اُصول کو مدّ نظر رَکھنا ضروری ہے اور وُہ یہ ہے کہ خواہ کوئی پیراگراف ہو یا ایک ہی آیت اس کے سیاق و سباق کو جاننا ضروری ہے تا کہ یہ واضح ہو جائے کہ بات کیا ہو رہی ہے، کون بول رہا ہے ، بات کس سے ہو رہی ہے۔ اس وَقت کے تواریخی ، معاشرتی ، سیاسی اور مذہبی حالات کیسے تھے اور اِس موضوع پر بات ہو رہی تھی ۔ اِس کے علاوہ یہ کہ اس حوالے میں میرے لیئے کیا بات ہو رہی ہے اور اس میں خدا کی میرے لیئےکیا مرضی ہے۔

اگر آپ مسیحی ہیں تو ’’کون سے حوالے کو سچ مانا جائے‘‘ والی بات آپ نہیں کرینگے ۔ کیونکہ ایسی سوچ رکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ آپ ایک حوالے کو تو پہلے ہی سے رَو کرنے کیلئے تُلے ہوئے ہیں۔ ایسی سوچ ذاکر نائک صاحب یا ان کے مریدوں کی ہی ہو سکتی ہے ۔ کم از کم آپ سے ایسی توقع نہیں کی جاسکتی۔ میری دُعا ہے کہ خداوند آپ کو اَپنی برکات سے معمور فرمائے (آمین )۔

Back to Questions