Home
Questions And Answers

سوال: بائبل مقدس اور اہل کلیسیا سے ۶ ستمبر کا کیا تعلق ہے؟

جواب:

یوم دفاع یعنی ۶ ستمبر کا بائبل مقدس اور اہل کلیسیاء سے کیا تعلق ہے؟

پاکستان کی سرزمین پر ہم برسوں سے یوم دفاع منا رہے ہیں جو اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ وطن عزیز ہمیں ایسے ہی نہیں مل گیا بلکہ اس کے پیچھے ۱۹۶۵،  میں پاکستان اور بھارت کے مابین لڑی جانے والی دوسری جنگ میں سینکڑوں نو جوان کی جانوں کا نذرانہ شامل ہے۔ ان شہداء میں نہ صرف مسلمان بلکہ مسیحی  نوجوان بھی شامل تھے اور حکومت کے پاس اُن کے بھی نام مندرج ہوں گے۔ کاش کہ جہاں مسلمان شہداء کو یاد کیا جاتا ہے وہاں اُن مسیحی نو جوانوں کو بھی یاد کیا جاتا اور  مسیحی قوم کے سرمارے فخر کے بلند ہوتے اور یہ اس بات کا ثبوت ہوتا کہ  اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں۔

ہم پاکستانی مسیحی عوام ۱۹۶۵، کے جانثار ان کو بلا رنگ و نسل اور مذہبی تفریق کے خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اس ملک کی سلامتی اور بقا کیلئے انہوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھی اور دشمن کی صفوں میں گھس گئے، اپنے ساتھ بم باندھ کر ٹینکوں کے نیچے لیٹ گئے ۔ اپنے ماں باپ، بیوی اور بچوں سے کہیں زیادہ اس ملک سے پیار کرتے ہوئے جان دے کر ایک ایسی تاریخ رقم کردی کہ رہتی دنیا تک اُن کی قربانیوں کو سراہا جاتا رہے گا۔

میں محسوس کرتا ہوں کہ ان شہداء کا لہو ہمیں آج پکار رہا ہے اور کہتا ہے کہ جس وطن کے ایک ایک ذرے کیلئے ہم نے جانیں  نثار کیں  تم اس کی تقدیر سے کیوں کھیل رہے اور کیوں لڑ مر رہے ہو۔ تم یو م  دفاع منا رہے ہو اور سمجھتے ہو کہ اس سے ہماری روحیں خوش ہوں گی؟ ساری دنیا اسلام آباد میں ہونے والے واقعات کا تماشہ دیکھ رہی ہے۔ کیا وُہ شاباش کہہ رہی ہوگی؟ جن قوموں نے ترقی کی اُنہوں نے صرف زبان سے زندہ باد کے نعرے ہی نہیں لگائے بلکہ اپنے ملک کو زندہ  رکھنے کیلئے کام بھی کیئے ہیں۔ کاش کہ ہم پاکستان کو اپنا گھر سمجھیں اور اس کی سلامتی اور بقا کیلئے جہاد کرتے رہیں۔

جہاد گردنیں اڑانا نہیں کیونکہ جو شخص کسی ایک انسان کا قتل کرتا ہے وہ ساری انسانیت کا قتل کرتا ہے۔ کیوں نہ کر پشن، بے روزگاری،  غربت، رشوت ستانی ، جلاؤ گھیرا، توڑ پھوڑ ، تعصّب کی روح ، منشیات کے اڈوں، لاقانونیت اور اپنے نفس کے خلاف جہاد کریں اور قوموں اور اُمتوں میں ایک مثالی قوم ہونے کی مثال قائم کریں۔ کھو کھلے جلسے جلوس اور کھو کھلے نعرے اور وہ بھی صرف ایک دن کیلئے کچھ حقیقت نہیں رکھتے۔ انقلاب لانے کیلئے پہلے اپنے باطن میں انقلاب لانا بہت ضروری ہے۔ میری ان باتوں کو نصیحت سمجھ کر قبول کرنا ضروری ہے۔ نو جوانو اہم تو چراغ آخری شب ہیں۔ لہذا ہمارے تلخ و شیریں تجربات سے سیکھ لو، ورنہ اس وقت پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا جب چڑیاں کھیت اُجاڑ دیں گی۔

معزز قارئین! جہاں اس ملک کی سلامتی اور بقا کیلئے لہو کے دریا بہے وہاں ایک اور روحانی بھید کھولنا اپنے کیلئے فرض اولین سمجھتا ہوں ۔ آج سے دو ہزار سال پہلے گنہگار انسان کیلئے پروردگار عالم نے ایک فدیے کا انتظام کیا تا کہ نسل انسانی کا ابدی دفاع ہو سکے ملکی دفاع عارضی ہیں اگر چہ بہت ہی معنی خیز ہیں لیکن انسان کو اپنے ابدی دفاع کیلئے بھی کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ابدی دفاع ہماری کاوشوں سے نہیں ہوتا بلکہ حق تعالیٰ کی طرف سے کیئے گئے انتظام پر ایمان لانے کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔ خدا کی محبت تمام مذاہب کے لوگوں کیلئے خواہ ان کی جلد سفید ہے یا سیاہ ایک ہی جیسی ہے۔ وہ کسی کی طرف داری نہیں کرتا کیونکہ وہ اپنا سورج نیک و بد دونوں پر چمکاتا ہے۔ اگر ہمارے ہاتھ میں ہوتا تو شاید اپنے گھر کے علاوہ کسی پر بھی سورج نہ چمکنے دیتے۔

 جب خدا نے دیکھا کہ انسان خود اعمال صالح کے سبب سے میرے پاس نہیں آسکتا تو اُس نے اپنے کلمہ کو جسم دے کر اس دنیا میں بھیج دیا۔ ہم نے اس کلمے کو مختلف ناموں سے جانا جبکہ ایک ہی شخصیت ہے۔ وہ کلمہ یسوع  مسیح حضور المسیح ، مسیح ِ  ابن مریم ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں اس لیے آیا کہ گنہگار انسان کے ابدی دفاع اور اُس کے گناہوں کی معافی کیلئے اپنی جان بطور فدیہ دوں۔ چنانچہ انتظام الہی کے تحت دو ہزار سال پہلے آپ نے بنی نو انسان کے ابدی تحفظ کیلئے اپنی جان قربان کر دی۔ آپ مرے تو مرے ہی نہیں رہے بلکہ مردوں میں سے جی بھی اُٹھے اور آپ آج بھی زندہ ہیں۔

کسی بھی زمانے میں کوئی بھی شخص جو اپنے آپ کو گنہگار تسلیم کرتا ہے اور اپنے گناہوں سے تو بہ کرتا ہے اور پھر یہ ایمان لاتا ہے کہ پرور دگار تیرا شکر ہو کہ مسیح یسوع میرے گناہوں کیلئے مر گئے دفن ہوئے اور جی اُٹھے اور میں اُن کے اس عظیم کفارے پر ایمان لاتا ہوں تو پھر اُسے گناہوں کی معافی اور ابدی تحفظ مہیا ہو جاتا ہے۔ انجیل شریف میں آیا ہے جو کوئی اُن پر ایمان لاتا ہے؟ وُہ ہلاک (خدا سے ابدی جدائی )نہیں ہوتا بلکہ ابدی زندگی ، ابدی تحفظ ، ابدی دفاع پاتا ہے۔

آپ جو کوئی بھی اس مضمون کو پڑھ رہے ہیں آپ ابھی ایسا کرتے ہوئے گناہوں کی معافی اور ابدی دفاع حاصل کر سکتے ہیں اور اگر پسند کریں تو اپنے فیصلے سے متعلق دیئے گئے ای میل پر لکھیں تا کہ آپ کیلئے مزید دُعا ہو سکے اور آپ کی ترقی کیلئے کسی مقامی ایمانداروں کی جماعت کا پتہ دیا جا سکے جہاں آپ جا کر مزید تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی سوال ہو تو بھی آپ لکھ سکتے ہیں۔ دعائے دل ہے کہ خدا کرے کہ یہ یوم دفاع آپ اور آپ کے ارد گرد کے لوگوں کے لیئے ابدی دفاع کا سبب بن جائے ۔ آمین۔

Back to Questions